نئی دہلی،جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سنٹر فار پرشین اور سنٹرل ایشین اسٹڈیز اور دار ا شکوہ فاؤ نڈیشن کے زیر اہتمام یک روز ہ کل ہند کانفرنس کا انعقادہوا۔ افتتاحی اجلاس میں اسکول آف لینگویج کی ڈین پروفیسر شوبھا سیواسنکرن نے خطاب کیا۔استقبالیہ کلمات سنٹرآف پرشین کے چیئرپرسن پروفیسراخلاق آہن نے پیش کئے جب کہ کلید خطبہ پروفیسر چندر شیکھر، صدر شعبہ فارسی ، دہلی یونیورسٹی نے پیش کیا۔ پروفیسر انوار عالم پاشا، سابق چیئر پرسن جواہرلال نہرویونیورسٹی ، اس افتتاحی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ مہمان اعزازی کے طور پر سوامی شانتاتام نندا ، سکریٹری رام کرشن، دہلی نے شرکت کی۔ پروفیسر مہتاب عالم رضوی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی بطور مہمان اعزازی زیب اسٹیج تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسکول آف لینگویج کے سابق ڈین پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ داراشکوہ خداداد صلاحیتوں کا حامل انسان تھا۔شاہی خاندان کا فرد ہونے کے باوجود اس نے جو کارہائے نمایاں انجام دئے اسے ایک عام انسان انجام نہیں دے سکتا۔ اس نے تصوف کی جومنزلیں نہایت قلیل مدت میں طے کیں وہ اس بات کی غماز ہیں کہ اس پر خدا کا خاص فضل تھا۔ ڈاکٹر محسن علی، ٹرسٹی داراشکوہ ریسرچ فاؤ نڈیشن نے کلمات تشکر ادا کئے جبکہ نظامت کے فرائض ریسرچ اسکالر صدام حسین نے انجام دئے۔ اس ایک روزہ سیمینار میں کل بیس مقالے پڑھے گئے۔ مقالہ پیش کرنے والوں پروفیسر عبدالخالق رشید، ڈاکٹر محسن علی، ڈاکٹر ذاولفقار علی انصاری،ڈاکٹر شہباز عامل، بینش اسد، محترمہ غزالہ،ڈاکٹر ملک سلیم جاوید، ڈاکٹر اریہنت کمار، ڈاکٹر عبدالواسع، ارشد حسین میر، جعفر رضا،رضوان علی کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ پہلے سیشن کی صدارت پروفیسر چندر شیکھر اور پروفیسر اے کے راشد نے فرمائی۔ دوسرے سیشن کی صدارت کے فرائض پروفیسر مظہر آصف اور انورخیری نے انجام دئے جبکہ آخری سیشن کی صدار ت ڈاکٹر مظہرالحق اورڈاکٹر ملک سلیم جاوید نے کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹرشہباز عامل، اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ فارسی جواہرلال نہرو نے سرگرم کردار ادا کیا۔












