پیر کا دن پورے ملک کے سیاسی مبصرین کے لئے بہت اہم دن تھا،کیونکہ یہ وہ دن تھا جب راہل گاندھی کو ملک کی کسی بڑی عدالت میں جانا تھا تاکہ سورت کورٹ نے انکے خلاف جس طرح ہتک عزتی کے کیس میں روایت سے الگ ہٹ کر فیصلہ دیا ہے اس پر اسٹے لیا جاسکے،لیکن دوپہر بعد تک جب راہل گاندھی کا کوئی وکیل کسی عدالت کے آس پاس بھی نظر نہیں آیا تو نہ صرف سرکار کی پیشانی پر بل پڑ گئے بلکہ سیاست کی تھوڑی بہت بھی سمجھ رکھنے والے یہ سمجھ گئے کہ غالباً کانگریس اعلیٰ کمان نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا پلان کر لیا ہے،کیونکہ سورت کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی راہل گاندھی نے یہی کہا تھا کہ ضمانت لینے کی کیا ضرورت ہے عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے مجھے جیل جانا چاہئے۔لیکن شاید اس وقت وہاں موجود کانگریس کے وکیلوں نے یہ سوچا ہوکہ بی جے پی سرکار راہل کے جیل جاتے ہی ایکشن میں آکرکہیں راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی ممبر شپ نہ رد کر دے۔ لیکن ان وکلا کی تشویش سے آگے جاکر پارلیمنٹری کمیٹی کے سربراہ نے بلا تاخیر راہل گاندھی کی ممبر شپ کو منسوخ کر دیا،جبکہ خود سورت کی عدالت نے اپنے فیصلے میں انہیں تیس دنوں کے اندر کسی بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی اجازت دے دی تھی۔
لوک سبھا کے اسپیکر کا ان کو معطل کرنا بھی ضروری تھا کیونکہ راہل بضد تھے کہ وہ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں،اور چونکہ ان کے غائبانے میں کم از کم چار بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے ان کے لندن دورے کے دوران دئیے گئے بیان پر سخت اعتراض کیا تھا ،لہٰذا ان کو بطور ممبر آف پارلیمنٹ اسپیکر لوک سبھا میں بولنے سے ایک حد تک ہی روک سکتے تھے جو انہوں نے روکا بھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی راہل گاندھی کے اس موقف کی تائید کر بیٹھے کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی آواز کو میوٹ کیا جاتا ہے۔اسپیکر اس کے پہلے بھی راہل گاندھی کے اس بیان کا 80 فیصد حصہ ریکارڈ سے حذف کر چکے ہیں جس بیان میں راہل گاندھی نے براہ راست وزیر اعظم سے اڈانی سے ان کے رشتے کی وضاحت طلب کی تھی۔
آر ایس ایس بیک گراؤ نڈ کے اسپیکر یہ سمجھ چکے تھے کہ اگر راہل گاندھی کو لوک سبھا میں پھر بولنے کا موقع دیتے ہی وہ ایک بار پھر آر ایس ایس اور اڈانی پر دلائل کے ساتھ بولیںگے اور بار بار ان کی تقریر کو ریکارڈ سے ہٹانا بھی آسان نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہیں پارلیمنٹ سے ہٹانا ہی بہتر طریقہ ہے ،اور انہوں نے وہی کیا۔لیکن راہل گاندھی کا ان دنوں جو تیور ہے اور جس سیاسی سمجھ کا وہ ثبوت دے رہے ہیں بی جے پی کے سارے چانکیہ مل کر بھی وہاں نہیں پہنچ سکے۔کیونکہ ان کی معطلی کی خبر پھیلتے ہی سارے اپوزیشن رہنماوؤ ں کے کان کھڑے ہو گئے اور سب ایک آواز میں راہل گاندھی کے خلاف عدالت کی سزا کو سیاسی انتقام کا نام دینے لگے ۔
بی جے پی کم از کم اپوزیشن کے اس اتحاد کا تصور نہیں کر سکتی تھی،اور اب اگر راہل گاندھی نے کسی عدالت میں جانے کی جگہ جیل جانے کو ترجیح دے دی تو پھر بی جے پی کے لئے راہل گاندھی کوڑھ میں کھاج ثابت ہوںگے اور بی جے پی کے لئے 2024 کا عام انتخاب جیتنا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔سیاست کے چوپال میں اب مباحثے کا موضوع یہ ہے کہ کیا ممتا ،اکھلیش ،کجریوال اور کے سی آر کانگریس کی قیادت قبول کرلیںگے ؟لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس سے الگ کسی محاذ کو بی جے پی مخالف ووٹر پسند کرنے کو تیار ہوگا۔کیونکہ اب تو راہل گاندھی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تنہا لیڈر ہے جو ان 9 سالوں میں مسلسل عوام کے درمیان رہ کر حکومت کی غلط پالیسیوں پر سوالات اٹھاتا رہا ہے۔راہل گاندھی نے ہی یہ ہمت کی کہ حکومت کے جبر کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے براہ راست اڈانی اور آر ایس ایس کی آئین دشمن اور ملک دشمن پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ اور آج اگر سرکار نے ان کے خلاف ہر طرح کی سازش شروع کر دی ہے تو اس کی وجہ کوئی بدعنوانی نہیں ہے بلکہ سرکار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال پوچھنا ہے۔ایک ایسے تاجر کے بارے میں جو بین الاقوامی سطح پر مشکوک ہو چکا ہے،اور ایسے بہت سارے شواہد موجود ہیں جو چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ اڈانی کی سرپرستی خود وزیراعظم کر رہے ہیں۔اب ایسے میں وزیر اعظم کا یہ فرض تھا کہ وہ خود آگے بڑھ کر جے پی سی کے سامنے خود کو پیش کرتے اور اپنی بے داغ شبیہ کو مزید بے داغ ثابت کرتے۔لیکن ہو اس کے بالکل خلاف رہا ہے۔راہل گاندھی کے اس داؤ کے آگے بی جے پی بالکل پست ہو چکی ہے اور جے پی سی کا معاملہ جتنا طویل ہوگا راہل گاندھی کی مقبولیت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔












