نئی دہلی ، طالبات کو زبردستی حراست میں لینے پر پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی اندرا پرستھ کالج کے پرنسپل کو فوری برطرف کرنے اور کالج کے دیگر اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔سیمانچل جن وکاس پریشد این جی او کے کارکنوں نے اندرا پرستھ کالج کی طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کے خلاف آج اندرا پرستھ کالج کے باہر احتجاج کیا۔ اس مظاہرے میں اندرا پرستھ کالج اور دہلی یونیورسٹی کی طالبات بھی ایس جے وی پی کے ساتھ موجود تھیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کالج کے سالانہ فیسٹیول کے دوران طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ فیسٹول کے دوران کچھ لوگ کالج کی دیوار عبور کر کے کالج کیمپس کے اندر داخل ہوئے۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان لوگوں نے طالبات کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور جنسی زیادتی کی۔ خواتین کارکنوں اور طالبات کے مظاہرے کو زبردستی روک کر دہلی پولیس نے انہیں زبردستی حراست میں لے لیا۔ اسے براڑی تھانے لے جایا گیا ہے۔ سیمانچل جن وکاس پریشدخواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام رہنے اور پرامن احتجاج کرنے کے حق کو استعمال کرنے کے لیے انہیں زبردستی حراست میں لینے کے لیے دہلی پولیس کی سخت مذمت کرتی ہے۔شرمناک بات یہ ہے کہ کالج فیسٹ میں اس واقعہ کے دوران کالج انتظامیہ اور پولیس خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی۔ طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرنسپل نے خود اس واقعے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح پولیس افسران بھی خاموش تماشائی بنے رہے اور ان غنڈوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔گزشتہ برسوں میں مرانڈا ہاؤ س اور گارگی کالج میں بھی ایسے ہی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام میں یونیورسٹی انتظامیہ کی ناکامی قابل مذمت ہے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ فیسٹ کے دوران طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے بجائے کالج انتظامیہ نے آج احتجاج کرنے والی طالبات اور خواتین کارکنوں کو دہلی پولیس نے زبردستی حراست میں لے لیا۔ یہی نہیں کالج انتظامیہ اس احتجاج میں شامل طالبات کو ڈرانے دھمکانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔سیمانچل جن وکاس پریشد این جی او کا مطالبہ ہے کہ اندرا پرستھ کالج کے پرنسپل کو دہلی یونیورسٹی سے فوری طور پر برخاست کیا جائے اور کالج انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ جو پولس افسران اس واقعہ کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے انہیں دہلی پولیس کو برطرف کر دینا چاہئے۔ سیمانچل جن وکاس پریشدکا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ این جی او اس واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں خواتین کے لیے ایک محفوظ اور ہراساں کرنے سے پاک ماحول کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک زبردست تحریک شروع کرے گا۔












