نئی دہلی، : وزیر تعلیم آتشی نے تیاگراج اسٹیڈیم میں دہلی کے تمام سرکاری اسکولوں کے پرنسپلوں اور ہیپی نیس کوآرڈینیٹرز کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے بطور استاد اور منتظم کی اپنی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ وہ اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح ہیپی نیس کے نصاب اور ذہن سازی نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے اور سیکھنے کے پورے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ ہیپی نیس کریکولم نے ہمارے اسکولوں کے بچوں کو بہتر انسان بننے کا درس دیا ہے۔ اب اسکولوں میں اس کی کامیابی کے بعد ہم اسے معاشرے کے مزید لوگوں تک لے جائیں گے۔ جہاں اسکول کے بچے Mindfulness کے ذریعے لوگوں کو خوش کر سکتے ہیں، جو خوشی کے نصاب کا ایک اہم جزو ہے۔ وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ آج دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچے ذہن سازی کے ساتھ اپنے دن کی شروعات کرتے ہیں اور اساتذہ اور بچوں کے لیے اس سے بہتر دن کی شروعات نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بہت سے سماجی اور خاندانی چیلنجز کا سامنا ہے۔اور اسی بوجھ کے ساتھ اسکول آتے ہیں۔ ایسے میں جب اسکول میں ان کا دن ذہن سازی کے ساتھ شروع ہوتا ہے تو بچوں کا سارا تنا¶ دور ہوجاتا ہے اور وہ مثبت انداز میں سیکھنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیپی نیس کریکولم کے تحت ذہن سازی نہ صرف بچوں بلکہ اساتذہ کے تنا¶ کو دور کرنے میں بھی مددگار ہے اور اب دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ہیپی نیس کریکولم کے نصاب پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں ہیپی نیس کے نصاب کے تعارف نے یہ وژن دینے کا کام کیا ہے کہ ہمیں تعلیم کو کس سمت لے جانا ہے اور تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر اسکولوں میں بچوں کو ہمیشہ ان کییہ مضمون سے متعلق چیزوں کو پڑھانے اور نصاب کو مکمل کرنے پر دیا جاتا ہے۔ لیکن خود اعتمادی کو کیسے بڑھایا جائے، روزمرہ کی زندگی میں مسائل کا سامنا کیسے کیا جائے، اپنے تعلقات کو کیسے بہتر کیا جائے جیسے اہم مسائل کو کہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے تنا¶ کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس کا بہت منفی اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ اچھے نمبر لے رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بہت ذہین ہے اور بعد میں اپنی زندگی میں اچھا کرے گا لیکن جیسے ہی اسے اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایسا نہیں کرتا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور اس وقت کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں ہیپی نیس نصاب شروع کیا، تاکہ نرسری میں پڑھنے والے بچے چھوٹی عمر سے ہی اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکیں اور ان کی صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔ خود کفیل۔ اچھی طرح سمجھنے کے لیےمجھے مدد مل سکتی ہے۔ وہ بچپن سے ہی زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اساتذہ نے اسے اپنی کلاسوں میں بہتر طریقے سے لاگو کیا ہے جس کے نتیجے میں دہلی کے سرکاری اسکولوں کے بچوں کے نہ صرف اپنے نتائج میں بہتری دیکھی گئی ہے بلکہ ان کے رویے اور شخصیت میں بھی بہت مثبت اثرات نظر آرہے ہیں۔ ہیپی نیس کلاس نے ہمارے بچوں کو بہتر انسان بننے میں مدد کی ہے۔ہم نے ذمہ دار شہری بننا سیکھا ہے اور اس میں ہمارے اساتذہ کا کردار بھی اہم رہا ہے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ خوشی کی توانائی کی بنیاد پر ہمارا مقصد اچھے پیشہ ور افراد کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بنانا ہے۔ ہم نے دہلی میں یہ ذمہ داری لی ہے، اب ملک اور دنیا کے تعلیمی نظام کو یہ ذمہ داری اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جس دن سے پوری دنیا کا نظام تعلیم یہ ذمہ داری اٹھا لے گا۔دنیا میں ہر کوئی خوش رہنا سیکھ جائے گا۔












