نئی دہلی، :اللہ رب العالمین نے ہمارے لیے نیکیاں کمانے کے بہت سارے آسان طریقے اورمواقع رکھے ہیں اگرہم اخلاص اورطریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ رکھیں تو یہ مواقع ہماری کامیابی کا ذریعہ بھی ہیں اوردونوں جہانوں کی فلاح کے ضامن بھی۔ رمضان کا مبارک ماہ ایک ایسا موسم بہار ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت نیکی کے کاموں میں بھر پور حصہ لیتی ہے اوریہ بڑی مسرت کی بات ہے کہ اکثر مسلمان اس ماہ مبارک میں صوم (روزہ) کا اہتمام بھی کرتے ہیں اورتلاوت کام پاک سے بھی جڑے رہتے ہیں ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق یہ دونوں چیزیں قیامت کے دن اپنا اہتمام کرنے والوں کے لیے شفاعت کریں گی قرآن مجید کہے گاکہ فلاں بندہ نے میری تلاوت کے لیے اپنی رات کی نیند کو قربان کرڈالا تھا اورروزہ کہے گا کہ اس نے میری خاطر اپنے آپ کو دن بھر بھوکا اورپیاسہ رکھا اور شہوات کی تکمیل سے رکا رہا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان دونوں کی شفاعت اس بندہ کے حق میں قبول کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی ، مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ،جوگابائی ، نئی دہلی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا نیکیوں کے آسان مواقع سے بھر پور فائدہ اُٹھانے سے متعلق مسلمانوں کوخطاب فرما رہے تھے۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ ایک حدیث کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ سخاوت سے کام لینے والے انسان تھے اورماہ رمضان میں آپ کی سخاوت مزید بڑھ جاتی تھی ، جبریل علیہ السلام جب آپ سے ملاقات کرتے اورقرآن مجید کا دور فرماتے تھے تو آپ کی سخاوت تیز چلنے والی ہوا کی طرح مزید تیزی اختیار کرلیتی تھی، یہ سخاوت صدقات وخیرات، نیکیوں کے کاموں، عبادات، فضائل اور زندگی کے دیگر تمام گوشوں میں بھر پور طریقہ سے دیکھی جاتی تھی۔خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ ایک حدیث کے مطابق ہم جب صبح اُٹھتے ہیں تو ہمارے جسم کے تمام اعضاءپر صدقہ واجب ہوجاتا ہے اور اسے ادا کرنے کے لیے ہمیں تسبیح وتحمید اور تکبیر نیز امربالمعروف ونہی عن المنکر کے آسان مواقع دیے گئے ہیں جن کے ذریعہ ہم اسے ادا کرسکتے ہیں اوردو رکعت چاشت کی نماز ادا کرنا اس صدقہ کا حق ادا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ تمہاری شرمگاہوں میں بھی تمہارے لیے صدقہ رکھا گیا ہے جیسے اس کے ناجائز استعمال پرتم کوگناہ ملتا ہے ویسے ہی اس کے جائز استعمال پرتم کوثواب بھی ملتا ہے ۔ مسلمان کا کسی مسلمان سے خندہ پیشانی سے ملنا ، راستہ سے کانٹا ہٹانا، جانور کوپانی پلانا، پودا لگانا یہاں تک کہ اگر پودہ سے کچھ چوری ہوجائے تووہ چوری بھی ایک مسلمان کے لیے باعث اجر اور صدقہ ہے اگرچہ چور کے لیے باعث گناہ اورعذاب ہے۔مولانا نے فرمایا کہ اللہ نے ہمارے لیے اتنی آسانیاں رکھی ہیں کہ اگرہم اللہ کی جانب ایک بالشت بڑھتے ہیں تووہ ہماری جانب ایک ہاتھ آتا ہے اوراگر ہم ایک ہا تھ اللہ کی طرف بڑھتے ہیں تووہ دو ہاتھ بندہ کی طرف بڑھتا ہے اوراگر بندہ اللہ کی طرف چل کر آتا ہے تواللہ اس کی جانب دوڑ کر آتاہے۔ اس وجہ سے ہماری ذمہ دار ی ہے کہ ہم ان آسانیوں کا بھر پور فائدہ اُٹھائیں اورمکمل اخلاص اوراتباع رسول کاخیال کرتے ہوئے نیکی کے کاموں میں آگے بڑھیں۔ اسی میں ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارے لیے دونوں جہانوں کی فلاح کا ذریعہ بھی ہے ۔اخیر میں دعائیہ کلمات اورماہ مبارک میں ایسا اخلاص پیداکرنے کی اپیل پرخطبہ ختم ہوا جس اخلاص کی بدولت پورے سال ہمارے اندر نیکیاں باقی رہیں۔












