بنگال اور بہار میں رام نومی کے جلوس کی آڑ میں دنگے کروا کر اس کی راکھ نتیش کمار اور ممتا بنرجی کے منہ پر ملنے کی ایک بڑی سازش تو بہت حد تک ناکام ہو گئی لیکن ان سرکاروں کو یہ سبق ضرور دے گئی کہ 2024 کے پہلے انتظامیہ کو پوری طرح چاق و چوبند رکھنا ہے۔کہا جاتا ہے جو جس کے پاس ہوتا ہے وہ وہی لوٹاتا ہے۔بی جے پی کے پاس دنگا ،فساد اور نفرت کی سیاست کے سوا اور کچھ ہے بھی کہاں ،اس کی انتخابی تیاری کا آغاز بھی اشتعال سے لت پت بیان سے ہوتا ہے اور انجام بھی انتقامی نعروں کے ساتھ ہوتا ہے۔یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ بی جے پی کیلئے عام انتخاب 2024 لوہے کا چنا ثابت ہونے والا ہے۔اور اسی لئے رام نومی کے جلوس کو فسادیوں نے پوری طرح یرغمال بنا لیا اور اسے زیادہ ترعلاقوں میں پھیلانے کیلئے رام نومی سے لے کر ہنومان جینتی تک توسیع دینے کی سازش کی۔ خبر یہ بھی ہے کہ لوکل انتظامیہ کو سی آئی ڈی نے گراؤنڈ پر ہونے والی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع ہی نہیں دی اور پولس کے بڑے افسران کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ سب کچھ نارمل ہے۔شوبھا یاترا میں ہتھیار لے کر چلنے والے گنتی کے چند افراد ہی تھے لیکن ان کے اشتعال انگیز نعروں نے یہ تاثر دیا کہ یاترا میں شامل ہونے والے تمام لوگ بلوائی ہیں۔اور یہ سب ایک منظم سازش کے تحت انجام دیا گیا۔لیکن جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلی نتیش کمار اور ان کی پارٹی کے سنجیدہ اور سرکردہ لیڈروں نے پولس افسران سے رابطہ کر کے حالات کی جانکاری لینی شروع کر دی ،خود نتیش کمار نے تمام متعلقہ افسران کو مستعد کر دیا اور پھر سب کچھ کنٹرول میں لے لیا گیا۔
حالانکہ ان چند گھنٹوں میں بھی کئی مقامات پر آگ زنی اور پتھر بازی سے نقصانات ہوگئے،جسے حادثہ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یہ سازش کس نے اور کیوں کی اس کی تفصیل بھی جلد ہی سامنے آجائیگی لیکن پہلی نظر میں اس پورے معاملے کا مقصد قطعی غیر سیاسی نہیں لگتا اور اس ڈور کا سرا 2024 کے عام انتخابات سے ہی جڑتاہے کیونکہ ان حادثات کے رونما ہوتے ہی جس شدو مد کے ساتھ گودی میڈیا نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نشانہ بنایا اور ان کو ایک کالج کے ذریعہ منعقد کی گئی افطار پارٹی میں لال قلعہ کے بیک ڈراپ کے ساتھ ٹوپی پہنے اور صافہ اوڑھتے دکھایا گیا اس سے ان کی منشا بالکل واضح ہوگئی۔اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ اپنی بڑی سازش کو ناکام ہوتے دیکھ کرگودی میڈیا کس حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
عام طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ نریندر مودی کا سیاسی سحر ٹوٹا ہے حالانکہ سچ یہ ہے کہ مودی کا کوئی سیاسی سحر کبھی تھا ہی نہیں۔اگر ایسی کوئی چیز ہوتی یا مودی ہندوؤں کے ہردئے سمراٹ ہوتے تو 2014 میں ایک لمبی پلاننگ کر کے انا ہزارے کو کانگریس کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ لعل کرشن اڈوانی کے مقابلے میں اپنے نام پر بطور وزیر اعظم مہر لگوانے کیلئے نریندر مودی کو سرمایہ داروں کی پریڈ کرانی پڑتی۔2014 میں کانگریس کا اقتدار سے بے دخل ہونا ایک سیاسی اتفاق کے سوا اور کچھ نہیں اور اس خلا کو فطری طور پر بی جے پی کے ذریعہ ہی پر ہونا تھا سو ہوا۔ لیکن 2019کا انتخاب بی جے پی ہارتے ہارتے اس لئے رہ گئی کہ عین انتخابی مرحلے کے دوران پلوامہ میں بم بلاسٹ ہو گیا۔اور نیشنل سیکیوریٹی کا ایجنڈہ تمام ایجنڈوں پر حاوی ہو گیا۔لیکن 2024 کا عام انتخاب ایسے ماحول میں لڑا جانے والا ہے جب مہاراشٹرا بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ،بہار میں نتیش کمار نے بھی یہ طے کر رکھا ہے کہ اس بار بہار سے اس جھوٹی پارٹی کو نکال باہر کرنا ہے۔بنگال میں ممتا بنرجی الگ خار کھائے بیٹھی ہیں کہ 2019میں جوسیٹیں بی جے پی نے حاصل کر لی تھیں انہیں کسی صورت واپس لینی ہیں۔اور مغربی بنگال کے سیکولر لوگ ممتا بنرجی کی پشت پرکھڑے ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔گذشتہ سال اسمبلی انتخاب میں بنگال میں بی جے پی کی کراری شکست اس کا ثبوت ہے۔اب ایسے میں اپنے تمام وعدوں کو زمین پر اتارنے میں ناکام رہنے والی بی جے پی اگر ان ریاستوں میں فسادات کی کاشت نہ کرے تو پھر کیا کرے۔ بی جے پی کیلئے ہندو مسلم فساد کرانا اس لئے بھی آسان ہے کہ فی الوقت مرکز میں اس کی سرکار ہے اور پورے ملک کی انٹیلی جنس اس کے قبضے میں ہے۔بہار کے رہتاس ،منیر شریف اور بہار شریف میں جو کچھ ہوا اور جس نے آگ لگائی سب کی پرتیں کھلنے لگی ہیں اور ابتدائی تفتیش میں یہ باتیں سامنے آنے لگی ہیں کہ بہار میں بڑے پیمانے پر دنگوں کی پلاننگ تھی لیکن نتیش کمار کی بروقت مداخلت اور تمام بڑے پولس آفیسروں کے رابطے میں آجانے کی وجہ سے ڈیڑھ سے دو گھنٹوں میں حالات کنٹرول میں آگئے اور ملزمین کی گرفتاری کے بعد ان کی نشاندہی پر دیگر مقامات پر ہونے والے فسادات کو برپا ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔
بہار ہو یا بنگال ان فسادات پر جس سرعت کے ساتھ کنٹرول کیا گیا ہے اس سے عوام کا اعتماد بھی ان سرکاروں پر بحال ہوا ہے ،اور اب ضرورت ہے کہ ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لے کر ان پر سخت کارروائی بھی کی جائے اور جن لوگوں کے گھروں ،دکانوں اور اداروں کو نقصان پہنچا ہے ان کو معاوضہ مل جائے۔یقینا یہ ایک حادثہ تھا اور حادثات کو رونما ہونے سے پہلے روکا نہیں جا سکتا ،لیکن حکومت اگر سنجیدہ ہو تو وہ اسے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے نہ صرف روک سکتی ہے بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دے کر ان کے حوصلوں کو توڑ بھی سکتی ہے۔بہارکے عام لوگ نتیش کمار سے یہی توقع کرتے ہیں۔












