سڑکو ں ،ریلوے اسٹیشن ،اور اہم مقامات کے نام بدلنے میں شاید بی جے پی کا کوئی ثانی نہیں، اس کا تاج اس کے سر پر تبھی سے ہے جب سے اس کی حکومت قائم ہے۔لیکن بد قسمتی سے ابھی بی جے پی کی توجہ اندرون ملک اہم مقامات کے نام بدلنے پر مرکوز تھی کہ چین نے اروناچل پردیش کے کئی حصوں کے نہ صرف نام بدل ڈالے بلکہ اس کا ڈھٹائی سے اعلان بھی کردیا۔یعنی ایک طرف بی جے پی شہروں اور اہم عمارتوں، ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلتی رہ گئی تودوسری طرف چین نے ہمارے کئی شہروں گائوں اور سڑکوں کے راتوں رات نام تبدیل کردئے اور ان کو اپنے نقشے میںبھی ملا لیا ۔ادھرہمارے وزیر قانون کرن رججو اسی میں الجھے رہے کہ ججوں کو کیسے نیچا کھایا جھائے اور کیسے ان پر لگام کسنے کا کام کیا جائے ،اگر وہ تھوڑی سے توجہ اپنے علاقہ کی جانب بھی دے لیتے تو شاید چین اپنی حرکتوں سے باز رہتا اور ایسی ہمت نا کر پاتا۔لیکن اس پر بی جے پی کی آنکھ تب کھلی جب یہ خبر ملک کے اخباروں میں جلی سرخیوں میں شائع ہوئی ۔دورائے نہیں کہ کانگریس پہلے سے حکومت کو آگاہ کرتی رہی ہے کہ چین کی درندازی اور ہماری زمین پر اس کی قبضہ کی نیت کی ہم کو ایک دن بڑی قیمت چکانی پڑے گی سو شاید ایسا ہی ہوا ۔در اصل بی جے پی نے پچھلے دنوں فیض آباد کو ایودھیا ،الہٰ آباد کو پریاگ راج ، حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کو رانی کملاپتی جبکہ مغل سرائے کو دین دیال اپادھیائے نگراور اورنگ زیب روڈ کو اے پی جے عبدالکلام روڈ میں تبدیل کر کے جس بھدی سیاست کا ثبوت دیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔لیکن مذہب کی گندی سیاست میں وہ اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ سرحد پر کیا کچھ ہو رہا ہے اس کی ذرا پروا نہیں ہے ! ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج چین نے ہماری زمین پر اپنا دعویٰ پیش کر کے ان علاقوں کے نام بدلنے کی ہمت دکھائی ہے۔ یہ بے حد تشویش کی بات ہے کہ جب چین نے اروناچل پردیش کے11مقامات پر ناموں کو بدلنے کا اعلان کیا اور اس پر ہماری سرد مہری اب بھی برقرار ہے!۔شایدایسا تیسری بار ہو اہے کہ چین نے ببانگ دہل بھارتی علاقوں کے نام بدلنے کی فہرست جاری کی ہے ۔جب سے یہ خبر سیاسی گلیاروں میں پھیلی ہوئی ہے ،رہنمائوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ،لیکن کوئی کچھ بولنے تیار نہیں ہے سوائے ا سکے کہ بی جے پی کے وزیر قانون کرن رججو کو اس پر تھوڑا سا طیش آیا اور انہوں نے یہ کہہ کر’’ نام بدلنے سے حقائق نہیں بدلتے ‘‘ اپنا پلہ جھاڑ لیا ۔حالا نکہ ان کے جواب سے بحثوں کا بازار گرم ہے اور لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب حقائق نہیں بدلتے تو ملک میں مقامات ، عمارتوں اور سڑکوں کے نام کیوں بدلے جارہے ہیں؟بہر حال، چین معاملے میںرججو کے ردعمل پر اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کو گھیر لیا اور سوال کیا کہ وزیر اعظم مودی اس پر اپنی خاموشی کیوںنہیں توڑتے ہیں یا چین کو کھری کھوٹی ہی کیوں نہیں سناتے ؟۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے اروناچل میں چینی مداخلت کے سوال پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پوچھا ہے کہ چین اروناچل میں تین بار نام تبدیل کر چکاہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں اور کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں۔انہوںنے کہا کہ چین نے دو ہزار مربع کلومیٹر زمین چھین لی ،اب جگہوں کے نام بدل رہا ہے! ،وزیر اعظم خاموش ہیں کوئی جواب نہیں ہے ،وزیر اعظم صاحب ایسا کیوں؟۔اپوزیشن کے اس سخت انداز سوال کا تا دم تحریر حکومت کی جانب سے کوئی جواب تو نہیں آیا لیکن اتنا ضرور اندازہ ہو رہا ہے کہ بی جے پی اس سے حواس باختہ ہے اور وہ پس و پیش میں پڑ گئی ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ چین جس طرح اروناچل پردیش میں اپنی گھس پیٹھ سے بھارت کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور ماضی میں کرتا بھی رہا ہے ،ہمارا بھی اس کوکوئی سخت جواب تو ضرور ہونا چاہئے تھا۔لیکن اس کی بد تمیزیوں کے باوجود ہماری اس کے ساتھ نرم روی چہ معنی دارد ؟یہ سوال اب بھی جوں کا توں کھڑا ہے ۔در اصل کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر بی جے پی حکومت سے کئی بار سوال کرتی رہی ہیں اور چین کی دھونس پر حکومت کو آگاہ بھی کرتی رہیںلیکن اپوزیشن کی باتوں کو شاید سنجیدگی سے لینا مناسب نہیں سمجھا گیااور انہیں نظر انداز کیا گیا۔اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی!۔غلط نہیں کہ اس در اندازی سے چین کی بد نیتی میں چھپی تجاوزات کی پالیسی صاف ظاہر ہوتی ہے ،جبکہ وہ اروناچل کو اپنا علاقہ کہہ کرسبھی الزامات کو ہوا میں اڑا تا رہا ۔ غلط نہیں کہ چین نے ایسا پہلی بار نہیںکیا ،اس سے پہلے اس نے 2017میں ،6مقامات ،2021میں 15مقامات اور اب 11مقامات کے نام بدل کر اپنی بد نیتی اور غنڈہ گردی کا واضح ثبوت دیا ہے ۔ دو سال قبل گلوان گھاٹی میں چینی فوجیوں سے جھڑپ میں ہمارے 20فوجی شہید ہوگئے تھے ۔ جس سے بھارت کو کافی ذک و تکلیف پہنچی تھی ،اپوزیشن تشویش کا اظہار کررہا تھا اور حکومت کو جواب دینے پر مجبور کردیا تھا۔لہذا اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے تمام شکوک اور الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقوں میں نا تو کوئی گھسا تھا نا ہی کوئی گھس آیا ہے ۔حکومت کی اس یقین دہانی پر سب نے تکیہ کرلیا تھا اور ان کی بات کو حرف آخر مانا تھا۔لیکن اب ایک بار پھر چین کی جانب سے اروناچل کے علاقوںکے نام بدلنے کے اعلان کے جواب میں وزیر قانون کے مہمل سے جواب سے کیا سمجھا جانا چاہئے ،یہ تو حکومت ہی بتا سکتی ہے ۔اس میں شک نہیںکہ چینی درندازی کو معمولی لینا مناسب نہیں، یہ ہمارے ملک کی سیکورٹی کا سوال ہے اور ان سے کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔سوال یہ ہے کہ در اندازی کے معاملے پر ہماری حکومت کا سرد رویہ کب تک رہے گا؟۔وہیںسوال یہ ہے کہ آخر چین اور بھارت کے درمیان اسٹراٹیجک اور سیاسی سطح کی کئی بار کی بات چیت کا صورتحال پر کوئی اثر پڑتا کیوں دکھائی نہیں دے رہا ہے؟












