منہاج احمد
نئی دہلی:دہلی میں این سی ای آر ٹی (نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ) کی کتابوں کی کمی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کو کتابوں کے لیے ایک دکان سے دوسری دکان پر بھٹکنا پڑتا ہے۔ اپریل سے تعلیمی سیشن شروع ہو چکا ہے لیکن کئی دکانوں سے کتابیں غائب ہیں۔ کلاس 1 اور کلاس 2 کی کتابیں بھی نہیں چھپیں۔ اس مسئلہ پر این سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ کتابوں کی قلت ہے، لیکن جلد ہی تمام کتابیں بازار میں دستیاب ہوں گی۔ اگلے ہفتے تمام کلاسوں کی 1.5 کروڑ کتابیں مارکیٹ میں آنے والی ہیں۔دلشاد گارڈن میں رہنے والی ایک والدین شیوانی شرما کہتی ہیں، میری بیٹی کی کلاس این سی آر ٹی 2 کی کتاب ابھی تک مارکیٹ میں نہیں ہے۔ اسکول نے جو دکان بتائی ہے وہ بھی اگلے ہفتے کی بات کر رہی ہے۔ بچہ ابھی بھی پچھلی کتاب سے پڑھ رہا ہے۔ ہم روز دکاندار کو فون کرکے پوچھتے ہیں۔ جب این سی ای آر ٹی کو معلوم ہے کہ سیشن اپریل کے شروع سے شروع ہوتا ہے، تو کتابیں مارچ میں ہی مارکیٹ میں آنی چاہئیں۔ بیٹی نئی کلاس میں خوش ہوتی ہے تو روز پوچھتی ہے کہ نئی کتابیں کب آئیں گی؟ مشرقی دہلی میں رہنے والے والدین روہت شرما کہتے ہیں، میں گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے بیٹے کے لیے دسویں جماعت کی تین کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں لیکن وہ کہیں نہیں مل رہی ہیں۔ دو دن پہلے میں دریا گنج گیا اور ہر دکان سے یہ تین کتابیں مانگیں لیکن نہ ملیں۔ دکانداروں نے بتایا کہ ان کی قلت ہے۔ میں ایک دکاندار سے نمبر لایا ہوں، اس نے کہا ہے کہ جب آئے گا تو بتاو¿ں گا۔ لیکن اس تاخیر کی وجہ سے بچہ پریشان ہے، پڑھائی شروع ہو چکی ہے۔دہلی اسٹیٹ پبلک اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر آر سی جین کہتے ہیں، ہر سال این سی ای آر ٹی کی کتابوں کی کمی ہوتی ہے۔ دراصل، NCERT طالب علموں کی تعداد کے مطابق چھوٹی کلاسوں میں کتابیں نہیں چھاپتا ہے کیونکہ اس کے پاس پرائیویٹ اسکولوں کا صحیح ڈیٹا نہیں ہے۔ اس کے پاس سرکاری ا سکولوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ اگر اسے سی بی ایس ای سے کلاس 9 سے 12 کا ڈیٹا ملتا ہے تو وہاں کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ این سی ای آر ٹی جو ایجنسیاں کتابیں بیچنے کے لیے دیتی ہیں، وہ بھی منتخب دکانداروں تک پہنچتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے دکاندار ان کتابوں کو دباو¿ میں رکھتے ہیں، تاکہ بعد میں انہیں مہنگے داموں مےں فروخت کیا جا سکے۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے کئی پرائیویٹ اسکولز پرائیویٹ پبلشرز کی کتابیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جین کہتے ہیں، این سی ای آر ٹی کو صرف نصاب پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ کتابیں شائع کرنے کے لیے ایک اور ایجنسی ہونی چاہیے، جو سال بھر اس پر کام کرتی رہے۔جنتا فلےٹ کے نوتن اور گرین فیلڈ اسکول کی پرنسپل کہتی ہیں، اس بار چھوٹی کلاسوں میں این سی ای آر ٹی ’جادوئی پٹارا‘ کے نام سے نئی کتابیں لا رہی ہے، جو کھیل کے ذریعے سیکھنے پر مبنی ہیں۔ ان کی کتابیں ابھی آنی ہیں، ہمیں دوسری کلاسوں میں کتابوں کی کمی کی کوئی شکایت نہیں ملی۔این سی ای آر ٹی کے چیف بزنس مینیجر وپن دیوان کا کہنا ہے کہ کتابوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی مارکیٹ میں پہنچ چکی ہے۔ تاہم اب بھی کتابوں کی کچھ کمی ہے۔ ہمارے سرور میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے کچھ تاخیر، سپلائی ڈیمانڈ سے کم ہے۔ تاہم جلد ہی تمام کلاسز کی کتابیں مارکیٹ میں آ جائیں گی اور والدین تک پہنچ جائیں گی۔ اگلے ہفتے تمام کلاسوں کی 1.5 کروڑ کتابیں مارکیٹ میں آئیں گی۔ کلاس 1 اور 2 کی کتابوں کے لیے ان کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں بھی جلد از جلد مارکیٹ میں پہنچ رہی ہیں۔












