نئی دہلی، رمضان کے اس پاک اور بابرکات مہینہ میں تراویح کے اندر ختم قرآن کریم کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ شب مدرسہ حصینیہ دارالتعلیم گلی نمبر 2/3 چوہان بانگر میں حافظ ابوبکر ابن حسیب احمد نے 17 روزہ تراویح میں کلام پاک مکمل کیا، سماعت کا فریضہ ادارے کے ناظم اعلیٰ قاری محمد عمران نے انجام دیا۔ بعد نماز تراویح منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فرحت عمر قاسمی نے کہا کہ اس ماہ مقدس کو قرآن پاک کے ساتھ خاص مناسبت ہے اسلئے تلاوت کا خصوصی اہتمام کریں اور عبادات مشغول ہوکر مغفرت طلب کریں۔ مولانا نے زور دیا کہ اپنے بچوں کو قرآن کریم سے وابستہ کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآنی تعلیمات کے مطابق گزاریں۔ مولانا نے کہا کہ ایک صحابہ کا معاشرہ تھا جن سے راضی ہونے اور بخشنے کا اعلان اللہ نے دنیا میں کردیا تھا مگر وہ اللہ کو راضی کرنے، اس کے پیغام کو عام کرنے اور اسکی راہ میں خرچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے حالت یہ تھی کہ نیک اعمال کی انجام دہی میں وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے اور ایک آج کا معاشرہ ہے جو سر تا پاؤ ں گناہوں میں ڈوبا ہے، اسے ہوش ہی نہیں کہ بحیثیت مسلمان اور بحیثیت انسان اس کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں، وہ بھولے بیٹھا ہے کہ اسے ایک دن موت کا مزا چکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ دینی قلعے ہیں ان کی حفاظت اور مددونصرت ہماری ذمہ داری ہے رمضان المبارک کا با برکت مہینہ چل رہا ہے دل کھول کر مدارس اور خدام قرآن کا تعاؤ ن کریں۔ مفتی ذوالفقار احمد نے اپنے ناصحانہ خطاب میں اللہ کا ذکر کرنے، مخلوق خدا پر رحم کرنے، قرآن اور سیرت طیبہ کو دل میں بسانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا فانی ہے اس سے دل نہ لگاؤ اس کی کوئی حیثیت نہیں، تیاری وہاں کی کرو جہاں ہمیشہ ہمیش کے لئے رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی ظالم و جابر طاقتیں جہاں ہمارا ایمان چھین لینا چاہتی ہیں وہیں ہمارے مذہبی تشخص کے امین مساجد، مدارس، مکاتب اور خانقاہوں کو مٹانے پر آمادہ ہے، ہمیں ہوش میں آکر باطل قوتوں کے ارادوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ مفتی موصوف کی دعا پر ہی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ بعد ازاں حفاظ کو ہدیہ و تحائف پیش کرکے حوصلہ افزائی کی اور جملہ حاضرین میں تبرکات تقسیم کئے گئے۔ اہم شرکاءمیں حسیب الدین بھائی، شکیل احمد، ایڈوکیٹ رخسار احمد، محمد ناصر سیفی، عبد الواحد، افضال سیفی، محمد ارشاد ، اشفاق احمد ، محمد زاہد ، حفیظ بھائی، محمد شان عالم اور اسلم بھائی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔












