منگل 11اپریل
شعیب رضا فاطمی
کانگریس نے پیر کی رات دیر گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سینئر لیڈر سچن پائلٹ کا اشوک گہلوت حکومت کے خلاف مجوزہ دھرنا پارٹی مفاد کے خلاف ہے اور پارٹی مخالف سرگرمی ہے.
واضح ہو کہ راجستھان میں سچن پائلٹ ایک بار پھر اپنی ہی سرکار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔اور وزیر اعلی اشوک گہلوت سے میڈیا کے ذریعہ متعدد سوالات پوچھ رہے ہیں ۔ایک ایسے وقت جب اشوک گہلوت اسمبلی انتخاب کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کے سامنے اسمبلی کے بعد 2024کا عام انتخاب بھی ہے اور اس میں وہ بہتر کارکردگی کر کے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن سچن پائلٹ بار بار ان کے سامنے چیلنج بن کر کھڑے ہو جاتےنہیں ۔
اس سلسلےمیں ایک نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے پچھلے پانچ ماہ سے انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا کہ "اگر ان کو اپنی حکومت کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو اس پر میڈیا اور عوام کے بجائے پارٹی فورم پر بات کی جا سکتی ہے۔ میں پچھلے 5 مہینوں سے اے آئی سی سی کا انچارج ہوں پائلٹ جی نے مجھ سے کبھی اس مسئلہ پر بات نہیں کی۔ "میں ان کے ساتھ رابطے میں ہوں اور میں اب بھی ان سے اچھے ماحول میں بیٹھ کر بات چیت کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ وہ کانگریس پارٹی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔”اس سے پہلے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اے آئی سی سی کے ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ یہ کہنا ‘غلط’ ہے کہ گہلوت حکومت بدعنوانی کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے اور کہا کہ بی جے پی کی جانب سے ایم ایل اے کو خریدنے کی کوشش کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ کووڈ کے دوران راجستھان حکومت کو برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ سنجیونی گھوٹالے میں مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کے خلاف الگ تحقیقات ہو رہی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ "مہنگائی راحت ابھیان” بھی اس ہفتے سےبشروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت ہوائی اڈوں، بس اسٹینڈز اور پنچایت دفاتر میں 3000 کیمپ بھی لگائے گی۔
اتوار کو، جب مسٹر پائلٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ہی سرکار کے خلاف منگل کو ایک روزہ دھرنا دیں گےاور ، بی جے پی کے سابقہ دور حکومت میں مبینہ 145,000- کروڑ کے کان کنی گھوٹالہ پر تحقیقات نہ کرانے کی وجوہات جاننا چاہینگے ۔راجستھان میں کانگریس کی حکومت نے جناب اشوک گہلوت کے ساتھ بطور وزیر اعلیٰ بڑی تعداد میں اسکیموں کو نافذ کیا ہے اور بہت سے نئے اقدامات کیے ہیں جنہوں نے لوگوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس نے ریاست کو ہمارے ملک میں حکمرانی میں قائدانہ مقام دیا ہے۔ "کانگریس کے مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے اتوار کو ایک بیان میں کہا۔
سازش کے پیچھے انہوں نے کہا کہ اگلے چند مہینوں میں مسٹر شیخاوت کے خلاف تحقیقات اور راجستھان میں کانگریس حکومت کو گرانے کی "سازش” کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئینگی ۔
اب دیکھنا ہے کہ کانگریس اعلی کمان راجستھان کے اس نئے بحران پر کیسے قابو پاتی ہے ۔












