نئی دہلی،دہلی میں موجود مسجد بنگالی مارکیٹ کے مدرسہ کا کچھ حصہ آج صبح بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔ یہ کارروائی لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او) کی طرف سے کی گئی ہے۔ اس بارے میں مسجد مینجمنٹ کا دعویٰ ہے کہ بغیر کسی جانکاری اور نوٹس کے بلڈوزر چلانے کی کارروائی کی گئی ہے۔مسجد بنگالی مارکیٹ کے مدرسہ کو منہدم کیے جانے کی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ایک یوٹیوب چینل ’ہندوستان لائیو‘ پر اس تعلق سے ایک ویڈیو رپورٹ اَپلوڈ کی گئی ہے جس میں مدرسہ کی دیواروں پر بلڈوزر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اس ویڈیو کے شروع میں ہی اینکرکہتے ہیں ”آج 11 اپریل کی صبح جب آپ سحری کھا کر نماز فجر ادا کر کے گہری نیند اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے اس وقت مسجد بنگالی مارکیٹ میںا مدرسہ تحفیظ القرآن دارالعلوم دہلی پر بلڈوزر چل رہاتھا وہ مزید بتاتے ہیں کہ تڑکے ”ایل این ڈی او، دہلی پولس، پیرا ملٹری فورس کے ساتھ یہاں پر پہنچے، پورے علاقے کی گھیرا بندی کی اور اس کے بعد جے سی بی بلڈوزر کو مدرسہ کے ان بڑے کمروں کی طرف، جہاں پر طالب علم اور اساتذہ رہتے ہیں، چلا دیا۔“موصولہ اطلاعات کے مطابق مسجد تقریباً 250 سال پرانی ہے۔ مسجد کے جس حصے کو توڑا گیا ہے، وہ کچھ ماہ پہلے ہی پختہ تعمیرکی گئی تھی۔ اس میں دو کمرے بھی بنے تھے۔ اس نئی تعمیر کو لے کر ایل اینڈ ڈی او کو اعتراض تھا۔ اسی اعتراض کو پیش نظر رکھتے ہوئے منگل کی صبح مدرسہ کی دیواروں کو منہدم کر دیا گیا۔لیکن اراکین مدرسہ اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں مدرسہ انتظامیہ کو نہ تو کوئی نوٹس دیاگیا اورنہ ہی ان سے کچھ پوچھ گچھ کی گئی ۔واضح ہوکہ اس سلسلے میں دہلی وقف بورڈ کی طرف سے بھی نہ تو وہاں کوئی آفیسر موجود تھا اورنہ ہی انہوںنے کوئی بیان دیا۔ یہ مدرسہ اور اسکی مسجد بھی وقف بورڈ کی ان 123جائیدادوںمیں سے ایک ہے جس پر عدالت میں سنوائی چل رہی ہے۔ ایسے میں اس انہدامی کارروائی کا مقصد سوائے ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو ہراساں کرنے کے اور کچھ نہیں۔












