لکھنؤ، اترپردیش ایس ٹی ایف نے جمعرات کو ایک انکاؤنٹر میں گینگسٹر عتیق احمد کے بیٹے اسد کو ہلاک کر ڈالا۔ اسد کے ساتھ اس کا ایک دوست غلام بھی مارا گیا۔ دونوں کو امیش پال قتل کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔اور وہ پولس سے چھپتا پھر رہا تھا ۔ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے اسد کے بیٹے کے انکاؤنٹر پر اتر پردیش حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اسے مکمل انارکی قرار دیا۔
مہوا موئترا نے کہا، میں حیران نہیں ہوں۔ اتر پردیش میں مکمل پولس راج ہے، جنگل راج ہے۔ جب آپ کے پاس ایسے وزیر اعلی اور وزیر داخلہ ہوں جو کہتے ہیں ‘گاڑی الٹ سکتی ہے، ‘ٹھوک دو…تو ایسا کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر اعلی اور پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اتر پردیش کی سرکار کے سامنے عدالت اور قانونی کارروائی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اتر پردیش ایس ٹی ایف کے سربراہ امیتابھ یش کے مطابق، اطلاع ملی تھی کہ اسد اور غلام جھانسی کے قریب بارگاوں اور چرگاؤں کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔ ایس ٹی ایف کی ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم چلائی۔ جب ایس ٹی ایف نے اسد کو ہتھیار ڈالنے کو کہا تو اس نے پولس کی بات نہیں سنی۔ اس کے بعد پولس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسد اور غلام کو ہلاک کر دیا۔
اسد اور غلام سے جدید ترین غیر ملکی اسلحہ، برٹش بلڈوگ ریوالور 455 بور، والتھر پی 88 پستول 7.63بور برآمد ہواہے ۔ دونوں کے پاس سے ایک موٹر سائیکل بھی ملی ہے۔واضح ہو کہ راجوپال قتل کیس کے گواہ امیش پال کا 24 فروری کو پریاگ راج میں جب وہ کورٹ سے اپنے گھر جا رہے تھے قتل کر دیا گیا تھا۔ شوٹروں نے امیش پال پر اس وقت گولی چلا دی جب وہ گلی سے باہر گاڑی سے اتر رہے تھے۔ اس واقعہ کے وقت بمبازی بھی ہوئی تھی۔ اس حملے میں امیش پال اور ان کے دو بندوق بردار بھی مارے گئے تھے ۔ امیش پال کی بیوی نے اس معاملے میں عتیق، اس کے بھائی اشرف سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا ۔ پولس کو اس معاملے میں عتیق کے بیٹے اسد سمیت 5 شوٹروں کی تلاش تھی۔ اس سارے قتل عام کی ذمہ داری اسد نے لے لی تھی۔ امیش کے قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسد کو ہتھیار کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تب سے وہ پولس کے ریڈار پر تھا۔اور بالاخر آج پولس نے اسے مار گرایا ۔جوگی حکومت کے دوران پولس کے انکاؤنٹر کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ جس پر حزب اختلاف کے لوگ مسلسل سوال اٹھا رہے ہیں ۔












