نئی دہلی ،:مسلم پرسنل لا بورڈ انڈیا کے صدر ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم رابطہ عالم اسلامی اور سیکڑوں تنظیمات مدارس مراکز خانقاہوں کی ذمہ دار مولانا سید رابع حسنی ندوی کی وفات پر سیلم پور دہلی میں تعزیتی پروگرام کا انعقادکیاگیا۔مفتی عبدالرافع قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند وقف کے حضرت کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فکری لمحات میں تعارف کرایا ۔انہوںنے کہا کہ جو پرسوں ہمارے بیچ نہیں رہے وہ اب رحمتہ اللہ علیہ ہوگئے آپ کی شخصیت ایسی تھی جو اپنی ذات میں انجمن علمی فکری تحریکیں انسانی تھی حضرت کی شخصیت کا ماہ رمضان اور ایسے عظیم موقع سے ہم سے روٹھ جانا گویا کہ سورج ٹوٹ جانے جیسا ہے میں دعا کرتا ہوں آج کی اس پاکیزہ نورانی محفل میں ہم جتنے حضرات موجود ہیں حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی جیسی شخصیت اللہ پھر ہمیں میسر فرمائے تا کہ ہندوستان میں ڈوبتی ہوئی امت مسلمہ کی کشتی کا کوئی تو کنارا لگائے اس مجلس میں ایس کریم چیئرمین ہیلتھ یونیٹی اورگنائزیشن آف انڈیا نے کہا آپ علوم ظاہری میں درک وادراک اور جامعیت وکمال کے ساتھ علوم باطنیہ سے بھی بہرہ وافر رکھتے تھے اور ہزاروں تشنگان حق کے لیے چشمہ فیض تھے ۔ آپ کی ذات اس دور قط الرجال میں ہم سب کے لیے ایک نعمت اور باعث رشک تھی ۔ان کی وفات پوری ملت کے لیے عظیم خسارہ ہے ۔ مولانا ضیاء الدین قاسمی نے گہرے رنج والم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بیچ سے عالمی علوم کی بڑی شخصیت الوداع کہہ کر غروب ہو گئی۔ مفتی اسلم قاسمی اماموں خطیب استاد مدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ دہلی نے حضرت کی کچھ خوبیاں گنائی حضرت والا کوگونا گوں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر عالی وقار سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔مولانا غزالی قاسمی نے حضرت مولانا محمد رابع حسنی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ دہلی کے انتقال پر ملال پر اپنی گہری تعزیت کا اظہار کیا ۔اپنے تعزیتی پیغام میں مفتی محمد اسحاق حققی قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ ایک عالمگیر شہرت یافتہ عالم دین تھے ۔ حضرت مفتی اقدس سعادت کریم چترویدی نے کہا ان کا سانحہ ارتحال قوم وملت کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔اس تعزیتی مجلس کے موجودہ خاص لوگوں نے شرکت کی اس موقع پر حافظ سمیع کریم مصباحی مولانا سلیمان قاسمی حافظ ذوالفقار مدرسہ ابو بکر صدیق ،،اعجاز،،حاجی محمد شمیم امروہوی محمد حسن احمد بارسوئ قابل ذکر ہیں مولانا ضیاء الدین قاسمی نے روحانی مجلس کا مخصوص دعا کرکے اختتام پذیر کیا۔












