نئی دہلی ، :اللہ تعالیٰ افطار کے وقت اپنے بندوں کے بیحد قریب ہوکر انہیں روزہ کی حالت میں دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے جس سے ماہ رمضان المبارک و روزہ کی اہمیت و مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارکانگریس لیڈران نے حضرت نظام اولیا ؒ کی درگاہ میںمنعقد ہ افطار پارٹی کے دوران افطار سے قبل اپنے خطاب میں کیا ۔اس افطار پارٹی کا اہتمام کانگریس لیڈر گورو چرن راجونے کیا تھا جس میں بلا تفریق مذہب وملت لوگوں نے بطور خاص شرکت کی ۔مصطفی آباد کے سابق رکن اسمبلی حسن احمد نے کہا کہ بلا تفریق مذہب وملت لوگوں کا یکجا ہوکر کھانا پینا اور ایک دوسرے کے تیوہاروں میں شامل ہوناہمارے ملک کی سیکڑوں برس پرانی روایت رہی ہے مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے اس روایت میں کمی واقع ہے جس کا ازالہ تبھی ممکن ہے کہ جب پرامن فضا مکدر کرنیوالوں کے خلاف ہندو مسلمان ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے آواز بلند نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ روزہ داروں کو چاہئے کہ روزہ افطار کے وقت ان لوگوں کے حق میں دعائیں کریں جو ملک و قوم کے مفاد میں کام انجام دیں اوردعا کریں اللہ ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے جن سے ملک و قوم کو نقصان ہورہا ہو اور ان کی اشتعال انگیزی سے کسی طبقہ کی دل آزاری وامن و امان کی فضا مکدر ہوتی ہو۔ انہوں نے گروچرن راجو کو مبارک باد پیش کی کہ تما م طبقات کے سرکردہ لوگوں کو افطار پارٹی میں شریک کر کے ہندو مسلم اتحاد کی شاندارمثال قائم کی ہے جس سے فرقہ پرستوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ کانگریس کے نوجوان سرگرم لیڈرعلی مہدی نے کہا کہ افطار پارٹیاںآپسی بھائی چارہ کی پرانی روایت ہیں جس میں تمام طبقات کے لوگ شریک ہوکر آپسی اتحاد و یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملے گی۔اس افطار پارٹی کے کنوینر گورو چرن راجونے کہا کہ اس افطار پارٹی میں بیشتر طبقات کے معززین کی موجودگی آپسی بھائی چارہ کی جڑوں کو مضبوط کرنے علامت ہے جس میں ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم ہوتا ہے اور یہی ہماری برسوں پرانی روایت ہے جسے برقرار رکھنے کیلئے ہم سب کی ذمہ داری ہے۔افسر نظامی نے کہا کہ نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ پر افطار پارٹی کا دلکش نظارہ ہے جس میں سماج کے تمام طبقات کا یکجا ہونا ہمارے ملک کی قومی یکجہتی کی شاندار مثال ہے ۔افطار کا اعلان ہوتے روزداروں نے افطار کیا جن کے ساتھ سبھی مذاہب کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔












