امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ہدایت پر قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب کی قیادت میں امارت شرعیہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جھارکھنڈ کے شہر آہن جمشیدپور میں

فساد متاثرین کے بیچ پہونچا، فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا، متاثرین سے ملے ، انہیں تسلی دی اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ۔ وفد میں نائب قاضی شریعت مرکزی دار القضاء مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب ، قاضی شریعت دار القضاء جمشید پور مولانا سعود عالم صاحب قاسمی، مولانا محمد افروز سلیمی القاسمی نائب قاضی شریعت، جناب ریاض شریف صاحب کے علاوہ دیگر معززین شہر شامل تھے۔اس وفد نے حضرت امیر شریعت صاحب دامت کی ہدایت پر حالات کا جائزہ لیا اور پولیس اور فرقہ پرست عناصر کے ظلم کے شکار مسجد کے سکریٹری جناب شارق صاحب ودیگر متاثرین سے ملے اور حضرت امیر شریعت کی طرف سے ا ن کو تسلی کے کلمات کہے ۔ساتھ ہی راحت رسانی کے طور پرضرورت مند متاثرین کا چیک ، خوردنی اشیاء اور کپڑوں کی شکل میں امارت شرعیہ کی جانب سے تعاون بھی پیش کیا ۔ امارت شرعیہ کے اس اقدام سے متاثرین اور مظلوم طبقات سمیت عام شہریوں میں بہتر پیغام گیا اور ان کے بوجھ ہلکے ہوئے۔
خیال رہے کہ 9 اپریل مطابق 17رمضان کو جمشید پور میں ایک مندر کے قریب کسی جھنڈے پر مرغی کے گوشت ملنے کی وجہ کر فسادات بھڑک اٹھے اور عین تراویح کے وقت مسجد فاروقی شاستری نگر، کدمہ، جمشیدپور کے قریب فسادیوں نے ہنگامہ گیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے جس کی وجہ سے حالات کشید ہ ہو گئے، اسی دوران ان فسادیوں نے تقریباً 35 مسلم دکانوں کو آگ کے حوالے کردیا، بچاؤ میں کچھ پتھراؤ بھی ہوا،اور پولیس انتظامیہ نے مسجد میں گھس کر تراویح کی نماز پڑھ رہے نمازیوں کو گرفتار کرلیا اور مسجد کے تقدس کو پامال کیا اور بڑی تعداد میں نمازیوں اور متاثرین کو گرفتار کر لیا۔ اس میں سے کچھ کی رہائی ہوئی لیکن ابھی بھی کئی درجن لوگ جیل میں قیدو بند ہیں۔ مسلمانوں کی گرفتاریاں زیادہ ہوئیں ۔

فسادیوں کے ذریعہ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانے کے بعد فسادیوں پر کارروائی کرنے کے بجائے مسجد میں پولیس داخل ہوگئی اور الٹے نمازیوں کو ہی ظلم کا نشانہ بنانے لگی۔ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم نے اس موقع سے فساد متاثرین کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ا مارت شرعیہ اور حضرت امیر شریعت آپ کے ساتھ ہیں ، آپ حوصلہ باقی رکھیں، ملک کے دستور اور قانون کے مطابق انصاف ضرور انصاف دلایا جائے گا۔ امارت شرعیہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے اور انتظامیہ سے مل کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ امارت شرعیہ نے جھارکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے وہ اہلکار جنہوں نے نمازیو ں پر ظلم کیا اور مسجد کی بے حرمتی کی ان کے خلاف کارروائی کی جائے ، جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ، ان کو ان کے نقصان کے اعتبار سے معاوضہ دیا جائے اور جن بے قصوروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کو فورا رہا کیا جائے۔ اس فساد میں تقریباً 35دوکانیں جلی تھیں۔ ان سب لوگوں کو امارت شرعیہ کی طرف سے بذریعہ چیک نقد امداد کی گئی نیز رمضان میں افطار و سحر کے لیے استعمال ہونے والی اشیائے خوردنی اور کپڑے ان کے درمیان تقسیم کیے گئے ۔اور تمام متاثرین سے ملاقات کرکے انہیں تسلی دی گئی۔ راحت رسانی کے اس عمل میں مسجد فاروقی کے صدر و سکریٹری ، دیگر اراکین اور معزز ین شہر وغیرہ وفد امارت شرعیہ کے ساتھ شریک رہے۔












