عبدالحسیب
نئی دہلی،: ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف میڈل جیتنے والے پہلوانوں نے ایک بار پھر محاذ کھول دیا ہے۔ اتوار کی شام سے بجرنگ پونیا، ساکشی ملک، ونیش پھوگاٹ اور دیگر اسٹار پہلوان نے جنتر منتر پر بیٹھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پریس کانفرنس کر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم اس بار احتجاج کرنے والے پہلوانوں نے سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے۔پہلوان بجرنگ پونیا نے کہا کہ اس بار سبھی پارٹیوں کا ہمارے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے خیرمقدم ہے، چاہے وہ بی جے پی، کانگریس، آپ یا کوئی اور پارٹی ہو۔ ہم کسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں۔ وہیں پہلوانوں کے احتجاج کے درمیان دہلی پولیس نے ان کی شکایت کی جانچ شروع کردی ہے۔ دہلی پولیس نے وزارت کھیل کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹیم سے رپورٹ طلب کی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ اتوار کو اسٹار پہلوانوں نے برج بھوشن کے خلاف اپنا احتجاج دوبارہ شروع کر دیا اور کہا کہ ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر انہیں دوبارہ یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔سات خواتین پہلوانوں نے برج بھوشن کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی سرکاری ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ ایک احتجاجی پہلوان نے پہلے کہا تھا کہ ایک نابالغ سمیت سات خواتین پہلوانوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی ہے، لیکن الزام لگایا ہے کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر رہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران ساکشی ملک نے کہا کہ‘‘دو دن پہلے ہم نے سی پی پولیس اسٹیشن میں شکایت دی تھی۔ لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ایک نابالغ سمیت سات خواتین (اور معاملہ پاکسو کے تحت ہے) نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت کی تھی۔ ہمیں پیر کو بات کرنے کو کہا گیا، لیکن اب دو دن ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ‘‘ہم ڈھائی ماہ سے زیادہ انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین تھا کہ حکومت ہمارا ساتھ دے گی۔ لیکن ہمیں رپورٹ کے بارے میں کوئی اپ ڈیٹ نہیں ملا اور آیا یہ پیش کی گئی ہے یا نہیں۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ ہم نے پہلے جھوٹ بولا تھا اور ہماری شکایت جھوٹی تھی، ہم اسے ہلکا نہیں لے سکتے کیونکہ ہم اپنی زندگی سچائی کے ساتھ جیتے ہیں اور ہم لڑائی جیتیں گے۔












