ممبئی(یواین آئی)آج اجودھیا میں رام مندر”پران پرتیسٹھا”کے موقع پر عروس البلاد ممبئی میں خوف وہراس چھایارہا،خصوصی طور پر مسلم اکثریتی علاقوں علاقوں میں بھی دہشت کا ماحول رہا،شہر اور مضافاتی علاقوں میں اکادکاواقعہ کے علاوہ مجموعی طور پر امن قائم رہا،البتہ گزشتہ شب دورافتادہ پنویل،میرا روڈاور جوگیشوری کے ملت نگر میں معمولی تصادم کی اطلاعات ہیں۔ شرپسندوں نے ملت نگر میں کاروں اور موٹر بائیک سے زبردستی گھسنے کی کوشش کی ۔ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں سخت پولیس بندوبست رہا،حکومت مہاراشٹر نے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا،جبکہ ریاست کے چار ہزار منادر کے اطراف سرکاری نگرانی میں جشن منایاگیا۔نصف شب کو ٹھیک بارہ بجے پٹاخے داغے گئے اور آتش بازی چھوڑی گئی۔ ذرائع کے مطابق میراروڈمیں امن و امان کی صورتحال کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے ۔ مقامی پولیس اہلکاروں کے علاوہ، فسادات کنٹرول پولیس (آر سی پی) کی ایک پلاٹون کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اجودھیا میں بھگوان رام کی ‘پران پرتیستھا’ یہ واقعہ اتوار کی شب پیش آیا، تاہم صورتحال کو قابو میں لایا گیا۔ پیر کی صبح تک حالات قابو تھے ۔ اطلاعات کے مطابق، چند لوگ مبینہ طور پر بھگوا جھنڈوں سے لیس گاڑیوں سے نعرے لگا رہے تھے ، اس کے بعد ایک مختلف فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مسجد کے پاس نعرے بازی پر اعتراض کیااور ان کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ جس کے بعد جھڑپیں ہوئیں اور غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق 6 افراد کو گرفتار کیاگیا ہے ۔جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں محمد علی روڈ،بھنڈی بازار،نل بازار ،مدنپورہ ،جے جے اسپتال اور آگرہ پاڑہ میں خوف وہراس کا ماحول دیکھا گیا جبکہ ملے جلے علاقوں میں اقلیتی فرقے نے دکانیں بند رکھیں،اس موقع پر بی جے پی اور شیوسینا شندے گروپ کی شاکھاوں اور اثر والے علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر پر گانے بجتے رہے اور بائیک سوار نعرے بازی بھی کرتے رہے اور جگہ جگہ جے شری رام لکھے جھنڈے بھی لگائے گئے تھے ۔












