نئی دہلی ،سماج نیوزسروس :چینی صدر شی جن پنگ نے دورے پر آئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین اور امریکہ کے مابین ممکنہ تصادم سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تائیوان کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے میں واشنگٹن کا طریقہ ’تنازعات‘ کا باعث بن سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے مابین ایک ’اچھی‘ ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے۔ ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے جہاز رانی کو بڑی حد تک محدود کر رکھا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل تک دنیا کا تقریباً 20 فیصد برآمدی تیل اور قدرتی گیس عام طور پر اسی راستے سے گزرتے تھے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق، ’’دونوں فریق اس بات پر متفق تھے کہ آبنائے ہرمز توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے کھلی رہنا چاہیے۔‘‘وائٹ ہاؤس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے مزید امریکی تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاہم بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں ایسی کسی دلچسپی کا ذکر نہیں کیا گیا۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں تائیوان کے بارے میں بھی کسی گفتگو کا ذکر شامل نہیں تھا، حالانکہ یہ معاملہ امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات میں ایک انتہائی حساس موضوع سمجھا جاتا ہے۔چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالا گیا، تو چین اور امریکہ کے درمیان ’تنازع‘ پیدا ہو سکتا ہے۔چینی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جمعرات 14 مئی کو بیجنگ میں ملاقات کے دوران چین کے صدر کا لہجہ ٹرمپ کے لہجے کے برعکس تھا۔ ٹرمپ نے شی کے ساتھ اس نہایت اہم سمٹ کا آغاز اپنے چینی ہم منصب کی تعریف کرتے ہوئے کیا اور کہا، ’’آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘‘شی کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کی جنگ، تجارتی تنازعات اور تائیوان جیسے پیچیدہ مسائل پر دونوں رہنما اب بھی ایک دوسرے سمختلف موقف رکھتے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس ملاقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کا تین روزہ دورہ چین شاید بڑی دوطرفہ کامیابیوں کے بجائے زیادہ تر رسمی تقریبات اور علامتی پہلوؤں پر مشتمل ہو گا۔دونوں رہنماؤں نے ’گریٹ ہال آف پیپل‘میں تقریباً دو گھنٹے بند کمرے میں ملاقات کی اور تجارت سمیت کئی امور پر گفتگو کی۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر شی نے صدر ٹرمپ سے کہا، ’’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔‘‘ماؤ ننگ نے لکھا، ’’اگر اسے مناسب طریقے سے سنبھالا جائے تو دوطرفہ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہیں گے۔ بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں حتیٰ کہ تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے پورا تعلق شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔‘‘یہ بیان اس مختصر عوامی گفتگو کے بعد سامنے آیا جو ملاقات شروع ہونے سے پہلے ہوئی، جس میں ٹرمپ نے تعریفی جملے کہتے ہوئے شی سے کہا، ’’آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔ بعض اوقات لوگ مجھے یہ کہتے ہوئے پسند نہیں کرتے، لیکن میں پھر بھی یہ کہتا ہوں کیونکہ یہ سچ ہے۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’آپ کے ساتھ ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔ آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔‘‘ امریکی صدر نے وعدہ کیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔صدر شی نے اپنے ابتدائی کلمات میں نسبتاً زیادہ سنجیدہ انداز اختیار کیا، اور امید ظاہر کی کہ امریکہ اور چین تصادم سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’کیا دونوں ممالک ’تُھوسیڈیڈیس ٹریپ‘ سے بالاتر ہو کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں۔












