ریاض: سرکاری حکومتی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا ہے کہ دمشق جلد ہی قومی منتقلی انصاف کمیشن کے اراکین کے ناموں کا اعلان کرنے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نام شام کے صدر احمد الشرع کے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے جاری کیے جائیں گے اور اس میں خواتین، علوی، کرد، مسیحی اور دیگر شامی عوام کے اجزاء کے افراد شامل ہوں گے۔یہ کمیشن صدر احمد الشرع کے حکم پر گزشتہ مئی میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شام میں منتقلی انصاف کو حاصل کرنا اور ان لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہے جن کا سابق صدر بشار الاسد کے دور میں، خاص طور پر 2011 کی شامی انقلاب کے بعد، شامی عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔”العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے ان ذرائع جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کے مطابق کمیشن نے کئی نام تجویز کیے ہیں جو شامی ایوان صدر کو بھیج دیے گئے ہیں۔ صدر ان ناموں میں سے حتمی فہرست کو صدارتی فرمان کے ذریعے منظور کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ ایک تکنیکی کمیٹی نے اس کردار کے لیے اہل تمام امیدواروں، جن میں سو سے زائد مرد و خواتین ججز اور وکلاء شامل تھے، کا جائزہ لیا اور یہ تمام لوگ ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔کمیشن کے سربراہ، عبد الباسط عبد اللطیف، جنہیں احمد الشرع نے نامزد کیا تھا، نے گزشتہ ہفتے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے ایک سابقہ انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ اسد خاندان اور دیگر مفروروں، جن کے شامی عوام کے خلاف تشدد اور قتل میں ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے، کو گرفتار کرنے کے لیے انٹرپول اور دیگر تمام متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے قائم کر رہے ہیں۔یہ کمیشن صدارتی تحفظ کے تحت کام کرے گا جو اسے حرکت اور لچک دے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی جرائم می ملوث پایا جائے، چاہے وہ ملک کے اندر ہو یا باہر، اسے قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی کہ امیدواروں کے ناموں کا انتخاب احتیاط سے کیا گیا تھا اور یہ کسی فرقہ وارانہ یا نسلی کوٹہ سسٹم پر مبنی نہیں تھا تاکہ شامی عوام اس کوٹہ سسٹم کے عادی نہ ہو جائیں۔ذرائع نے کوٹہ سسٹم کی مخالفت سے متعلق اس نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس خیال کو عام نہیں کرنا چاہتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تنوع ضروری ہے۔ ہر ایک کو شرکت کا حق ہے۔ لیکن کوٹہ سسٹم شامیوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیاسی خیال ہے جو ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھتا ہے جو اس طرز کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرتا۔ دوسروں کے تجربات پر نظر ڈالیں تو یہ نتیجہ فائدہ مند نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو ریاست پر طاقت حاصل کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ یہ سسٹم ریاست کو کمزور کرتا ہے اور اس کی خودمختاری کو محدود کرتا ہے۔












