’’منی پور کے عوام میں بی جے پی حکومت کے خلاف غصہ ، وزیر اعلی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ‘‘
نئی دہلی :منی پور میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری تشدد میں کسی بھی طرح کی کمی نہیں آ رہی ہے بلکہ ایک بار پھر اس میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ منی پور میں ایک مرتبہ پھر اس وقت ہنگامی صورت پیدا ہو گئی جب مسلح کوکی عسکریت پسندوں کے بم دھماکوں اور راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ (آر پی جی) حملوں دو پولیس اہلکار اور باپ بیٹے سمیت کل 7؍ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 10؍ دیگر زخمی ہوگئے۔اس تشدد کے پیش نظر بی جے پی حکومت کے خلاف عوام میں روز بروز غصہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ صوبہ کے وزیر اعلی کے خلاف عوام کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے ۔ گزشتہ روز خواتین مشعل ریلی کرتے ہوئے وزیر اعلی کی رہائش گاہ تک پہنچ گئی تھیں ۔ علاوہ ازیں کنگچپ، امپھال ویسٹ میں مسلح کوکی عسکریت پسندوں نے منورنجن نامی نوجوان کو قتل کر دیا۔ چار افراد، جن کی شناخت اوینم بامولجاو اور ان کے بیٹے اوینم مانیٹومبا، تھیم سومن اور ننگتھوجام نبڈویپ سنگھ کے طور پر ہوئی، جو ننگتھوکھونگ واٹر سپلائی کے قریب تھے، کو بھی دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا۔ علاقے میں کشیدگی ہے۔ وزیر گووند داس نےکونتھوجم متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔سرحدی شہر مورہ میں کوکی عسکریت پسندوں کے حملے میں منی پور پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور چھ دیگر پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ واضح رہے منی پور میں گزشتہ سال دو فرقوں کے درمیان تنازعہ شروع ہوا تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔












