چنڈی گڑھ، (یو این آئی) ہریانہ میں گروگرام کی لیزر ویلی میں منعقدہ آتم نربھر بھارت کا وجے پرو پروگرام میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے موبائل کی لائٹ روشن کرکے ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ڈائریکٹ سیلنگ ماڈل کو روزگار اور سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔پروگرام میں موجود لوگوں نے ایک ساتھ ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کرکے عالمی ریکارڈ بنایا۔ نیز ڈرون اور لیزر شو کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ مسٹر سینی اور مسٹر دھامی کی تصاویر کو آسمان میں دکھائی گئیں، جس نے وہاں موجود لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ وزیراعلیٰ مسٹرسینی نے کہا کہ یہ تقریب خود روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوانوں کو معاشی طور پر قابل بنانے کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان اب نوکری کے متلاشی نہیں رہے بلکہ نوکری فراہم کرنے والے بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ڈائریکٹ سیلنگ ماڈل اس سوچ کو تقویت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کے ذریعے مصنوعات براہ راست صارفین تک پہنچتی ہیں جو معیار کو یقینی بناتی ہے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ پروگرام میں ملک بھر سے آئے ڈائریکٹ سیلرز، خواتین کاروباریوں اور نوجوانوں کی بڑی شرکت نے اسے تاریخی بنا دیا۔اے ڈبلیو پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سنجیو کمار نے کمپنی کی طرف سے آتم نربھر بھارت کے مقصد کو آگے بڑھانے اور روزگار پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کا یقین دلایا۔ اس تقریب میں کابینہ کے وزراء راؤ نرویر سنگھ، وپل گوئل، ایم ایل اے مکیش شرما اور بملا چودھری بھی موجود رہیں۔مسٹر سینی نے کہا کہ ہریانہ میں اس طرح کے بڑے ایونٹس واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست تیزی سے ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے میں ہر طبقے کا کردار اہم ہوگا۔ دوسری جانب ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے کانگریس پارٹی کی غیر حاضری پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ریاست کی جمہوری تاریخ کا "سیاہ دن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان سے باہر رہ کر اور پارکنگ لاٹ میں متوازی اجلاس” منعقد کرکے جمہوریت اور اسمبلی کے وقار کی توہین کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن لوگوں کو ایوان میں بحث کے لیے بھیجا گیا ہے، وہ پارکنگ میں سائے سے لڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس پارٹی پر قواعد اور اسپیکر کی بے عزتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ مسٹر سینی نے واضح کیا کہ حکومت کی تجویز سیاسی نہیں ہے، بلکہ خواتین کے حقوق، وقار اور بااختیار بنانے کے لیے وقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناری شکتی وندن بل کا مقصد خواتین کے لیے بروقت 33 فی صد ریزرویشن کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ 2029 کے عام انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ دین دیال لاڈو لکشمی یوجنا کے تحت استفادہ کنندگان کو چھ قسطیں جاری کی گئی ہیں، اور اہل خاندان اپنی بی پی ایل حیثیت برقرار رکھیں گے۔












