’پران پرتشٹھا ‘کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل ،ایودھیا میں رام مندر میں 22؍جنوری کو منعقد ہونے والی تقریب کے خلاف بھولا سنگھ نے عدالت سے کیا مطالبہ ، عدالت نے فوری طور پر سماعت سے کیا انکار
عدالت میں داخل درخواست میں کیا کہا گیا
عام انتخابات کے بعد منعقد کی جائے یہ تقریب
شنکرآچاریوں کی رضا مندی کے بعد ہو پران پرتشٹھا
مندر اکی تعمیر مکمل نہیںاس لیے تقریب مناسب نہیں
پران پرتشٹھا شاستروں کے خلاف کی جا رہی ہے
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: اجودھیا میں ہوئے رام مندر کی تعمیر میں اپنی کامیابی تلاش کرنے والی بی جے پی کو اس وقت سیاسی دھچکا لگا جب پران پرتشٹھا تقریب کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ کو نہ جانے دیا جائے ۔ حالانکہ عدالت نے پٹیشن پر فوری طور پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تاہم یہ بی جے پی کے لیے اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ اس کی مخالفت خود ہندو طبقے کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پٹیشن اس وقت داخل ہوئی ہیں کہ جب خود کئی شنکرآچاریوں کی جانب سے بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کو گھیرا جا رہا ہے اور اس تقریب کو سیاسی قرار دیا جا رہا ہے ۔ شنکرآچاریوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی باوجود اس کے اس میں پران پرتشٹھا کی جا رہی ہے جو شاستروں کے اعتبار سے غلط ہے ۔ ہندو مہاسبھا بھی ناراض ہے کہ جو کام اس کا ہے وہ کام بی جے پی کر رہی ہے ۔ تفصیلی رپورٹ یہ ہے کہ ایودھیا میں رام مندر میں 22 جنوری کو ہونے والی ‘پران پرتشٹھاکے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی 2 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ تاہم عدالت نے انہیں فوری طوری پر سننے سے انکار کر دیا ہے۔ کل (17 جنوری 2024) کو غازی آباد کے بھولا سنگھ نامی شخص کے ذریعے داخل کی جانے والی پی آئی ایل کے بعد خبر یہ تھی کہ عدالت اس پر آج سماعت کر سکتی ہے لیکن اب عدالت نے اس پر فوری طور پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔واضح رہے کہ بھولا سنگھ نے اپنی مفادِ عامہ کی درخواست میں عدالت سے پران پرتشٹھا کے پروگرام میں وزیر اعظم کے ساتھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی شرکت پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے عدالت سے 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے مکمل ہونے اور سناتن دھرم کے سبھی شنکراچاریوں کی رضامندی ملنے تک اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔اپنی درخواست میں بھولا سنگھ نے یہ دلیل دی تھی کہ مندر ابھی زیر تعمیر ہے اور دیوتا کی پران پرتشٹھا سناتن روایت کے برخلاف ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق پوش مہینے میں کوئی بھی مذہبی اور شوبھ کام نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے پران پرتشٹھا کی یہ تقریب بھی نہیں ہونی چاہئے۔غازی آباد کے رہنے والے کشیپ بھولا داس نے اپنی پی آئی ایل میں بی جے پی پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے رام مندر کے لیے کسی طرح کا کوئی چندہ نہیں دیا ہے۔ یہ مندر عام لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے اور بھارت کے عام لوگوں نے مندر بنانے کے لیے چندہ دیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو اس تقریب میں شامل ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا دوسری پی آئی یل میں اترپردیش کے چیف سکریٹری کے اس سرکیولر کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اضلاع کے کلکٹرس کو رام کتھاؤں، رامائن پاٹھ وبھجن کیرتن کی محفلیں منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آل انڈیا لایرس یونین (اے آئی ایل یو) کے ذریعے دائر اس دوسری پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ 21 دسمبر 2023 کو اترپردیش کے چیف سکریٹری نے ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے ضلع کلکٹرس کو رام کتھا، رامائن پاٹھ اور بھجن وکیرتن کی محفلیں منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 14 سے 22 جنوری تک رام، ہنومان اور والمیکی مندر میں کلش یاترا نکالنے کے لیے کہا گیا ہے جو آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے اس پر روک لگائی جائے۔












