دیوبند ،سماج نیوزسروس:کچھ بری عادتیں لوگوں میں پھیل رہی ہیں جو معاشرہ کی ہم اہنگی کو کمزور کر رہی ہیں اور ناراضگی اور انتشار پھیلا رہی ہیں اس کے نتیجے میں بہت سے سماجی مسائل اور خاندانی بکھراؤ پھیل رہا ہے ان بری عادتوں اور خراب اخلاق میں چغل خوری ہے جو ایک فریق یا فرد کی باتوں کو دوسرے فریق یا فرد تک پہنچانا ہے جس کا مقصد فساد پھیلانا ہے۔ان خیالات کا اظہار فتوی آن موبائل سروس کے چیئر مین مفتی محمد ارشد فاروقی نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میںکیا۔انہوںنے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کے ایک باغ کے پاس سے گزرے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا اور عذاب کسی بڑے مسئلے کی وجہ سے نہیں دیا جا رہاتھا بلکہ ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا غیبت اور چغل خوری بہت سے لوگ غیبت اور چغل خوری کی ایک ہی حقیقت سمجھتے ہیں جبکہ دونوں کی حقیقت بالکل جداگانہ ہے ۔:مفتی محمد ارشد فاروقی نے کہاکہ غیبت کی تعریف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمائی کہ اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا ایسا تذکرہ کرنے کہ وہ سنے تو ناپسند کرے۔ حاصل یہ کہ جس کو نقصان پہنچایا گیا وہ موجود نہیں ہے چغل خوری کی تعریف جب کہ چغل خوری کی حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کی بات کسی کی حرکت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ایک کی لکڑی دوسرے سے لگانا اور مقصد برائی پھیلانا ہو۔اللہ تعالی نے قران کریم میں چغل خوری جیسے سنگین جرم کا تذکرہ فرمایا ہے کیونکہ یہ بدترین خصلت ہے۔ چغل خور چپکے سے باتیں سن کر یا ادھر ادھر کی باتیں لگا کر فساد پھیلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔چغل خوری معاشرتی و سماجی اتحاد کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتی ہے اور افراد میں بغض و عناد کا زہر گھول دیتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ جب دل خراب ہو جائے تو سارا جسم تباہ ہو جاتا ہے دل کی خرابی کا فطری نتیجہ دوسرے سبب زبان کی خرابی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان تمام جرائم اور گناہوں کو ہلکے میں لیتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ کے نزدیک یہ سنگین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ معاشرہ کے اتحاد کے خاتمہ اور سماج افراد میں نفرت کے بیج بونے والے اسباب کے خلاف مہم چلائے اور اصلاح معاشرہ کی تحریک عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں۔












