جے ڈی یو صدر نے اپنے اراکین اسمبلی کو 25؍جنوری تک پٹنہ میں رہنے کی ہدایت دی ، چہ می گوئیاں شروع ہوتے ہی لالو پرساد یادو اور تجسوی کی نتیش کمار سے ملاقات، وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان نے بھی پھیلائی سیاسی سنسنی
بہار کی سیاست کیوں ہے توجہ کا مرکز ؟
نتیش کمار پھر این ڈی اےمیں جائیں گے ،چہ می گوئیاں
تیجسوی یادو نے ملاقات کے بعد سب کی زبان بند کی
بی جے پی نے بھی پٹنہ میں کی ایم ایل اے کی ہنگامی میٹنگ
جیتن رام مانجھی نے بھی اپنے اراکین کو پٹنہ میں روکا
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی ، سماج نیوز سروس:عام انتخابات سے عین قبل ایک بار پھر بہار قومی سیاست میں توجہ کا مرکز بن گیا۔یہ اس وقت ہوا کہ جب بہار کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار نے اپنے تمام اراکین اسمبلی اور اراکین کونسل کو ہدایت جاری کی ہے کہ سب 25؍جنوری تک پٹنہ میں رہیں ۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی نہ صرف بہار بلکہ قومی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی اور یہ چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں کہ کیا نتیش کمار انڈیا اتحاد کو چھوڑ کر پھر این ڈی اے میں شامل ہو ں گے ؟ اس خبر کے عام ہوتے ہی آر جے ڈی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی بہار لالو پرساد یادو اور بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو ہنگامی طور پر نتیش کمار سے ملاقات کرنے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے جہاں ان کی قریب 45؍منٹ تک میٹنگ ہوئی۔میٹنگ کے بعد چہ می گوئیاں ذرا کم ہوئی ہیں کیونکہ ملاقات کے بعد تیجسوی یادو نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاگٹھ بندھن کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ہم سب نتیش کمار کی قیادت میں مل کر عام انتخابات لڑیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ سب پورے ہو رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب سے نتیش کمار جی اور لالو پرساد جی ایک ہوئے ہیں تب سے بی جے پی کی مشکلیں بڑھی ہیں ۔بی جے پی گھبرائی ہوئی ہے ۔ در اصل موقع کی تلاش میں بیٹھی بی جے پی نے بھی ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے ۔ بی جے پی کے بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجے کمار سنہا نے بھی اپنے اراکین اسمبلی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی این ڈی اے کے ساتھی جیتن رام مانجھی نے بھی اپنے اراکین اسمبلی کو 25؍جنوری تک پٹنہ میں ہی رہنے کی ہدایت کی ہے ۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ مرکز وزیر داخلہ امت شاہ سے جب ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ اگر نتیش کمار این ڈی اے میں شامل ہونا چاہیں گے تو کیا ان کو موقع دیا جائے گا تو اس پر امت شاہ نے کہا کہ اگر کسی کی کوئی ایسی تجویز آتی ہے تو اس پر غور کیا جائے گا ۔ در اصل یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے قومی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے ۔ اس پورے ہلچل میں ابھی تک کانگریس کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ۔واضح رہے کہ نتیش کمار کی ناراضگی کی باتیں کافی دنوں سے چل رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں منعقدہ آن لائن انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں جب نتیش کمار کو کنوینر بنانے کی تجویز پیش کی گئی تو اس کو انھوں نے ٹھکرا دیا تھا۔حالانکہ اس کے بعد جے ڈی یو کی جانب سے بیان دیا گیا تھا کہ انڈیا اتحاد مضبوط ہے اور سب مل کر الیکشن لڑیں گے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت انڈیا اتحاد کی جو صورت حال ہے اس میں سب سے مضبوط صورت حال بہار کی ہے ۔ بہار میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر اتفاق رائے ہے ،ایسی خبرہے ۔کانگریس نے بھی سیٹوں کے معاملہ میں دونوں پارٹیوں کی ذمہ داری سونپی ہوئی ہے ، ایسی رپورٹ ہے ۔علاوہ ازیں مذکورہ بالا باتوں کی وجہ سے ہی اس وقت بہار اور جے ڈی یو قومی سیاست میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے لیکن یہ طے ہے کہ اگر نتیش کمار انڈیا اتحاد کو چھوڑتے ہیں تو یہ قومی سیاست میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ہوگا ۔












