17؍مہینےبعد عظیم اتحادسے رشتہ توڑ کر پھر این ڈی اے میں ہوئے شامل ، بی جے پی کے ساتھ مل کر بنائی نئی حکومت ، دو نائب وزیر اعلی اور 6؍کابینی وزرا کی بھی حلف برداری
حلف کے بعد نتیش کمار اپنے بیان میں کیا بولے کابینہ میں جلد از جلد توسیع کی جائے گی اب ہم کہیں ادھر ادھر جانے والے نہیں ہیں بی جے پی کے ساتھ تو ہم پہلے بھی رہے ہیں بہار کی ترقی ہمارا مقصد ہے اور کچھ بھی نہیں
نئی دہلی ؍پٹنہ:28 جنوری سماج نیوز سروس:کانگریس پر ٹھیکرا پھوڑتے ہوئے جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو ) کے قومی صدر اور 18؍سال سے بہار میں بطور وزیر اعلی حکومت کرنے والے نتیش کمار کی سیاسی چال سے قومی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ۔ 17؍مہینے بعد آر جے ڈی اور کانگریس والے مہاگٹھ بندھن کو چھوڑ کر نتیش کمار ایک بار پھر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے میں شامل ہو گئے اور نویں مرتبہ بطور وزیر اعلی حلف لیا ۔ نتیش کمار کے اس فیصلے سے سب سے بڑا دھچکا انڈیا اتحاد اور کانگریس کو لگا ہے ۔علاوہ ازیں نتیش کمار کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سمراٹ چودھری اور وجے سنہا سمیت چھ دیگر نے کابینی وزرا کے طور پر حلف لیا۔ راج بھون میں منعقدہ تقریب میں بہار کے گورنر راجیندر وشواناتھ ارلیکر نے نتیش کمار کے بعد بی جے پی کے سمراٹ چودھری، وجے کمار سنہا، جے ڈی یو کے وجے چودھری، وجیندر یادو، شرون کمار، بی جے پی کے ہی پریم کمار، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے سنتوش کمار اور سومن کمار اور آزاد سمیت کمار سنگھ نے کابینہ کے وزراء کے طور پر حلف لیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے حامیوں نے جئے شری رام اور مودی مودی کے نعرے لگائے ۔ اس کے ساتھ ہی ایچ اے ایم کے حامیوں نے جئے بھیم کے نعرے لگائے اور جے ڈی یو کے حامیوں نے نتیش کمار کے حق میں نعرے لگائے ۔ حلف برداری کی تقریب میں بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین دیوش چندر ٹھاکر، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا ، مرکزی وزیر پشوپتی کمار پارس، ایچ اے ایم کے قومی صدر جیتن رام مانجھی، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان، جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ للن سنگھ، بی جے پی لیڈر منگل پانڈے اور راجیو پرتاپ روڈی اور کئی دیگر معززین موجود تھے ۔علاوہ ازیں حلف برداری کے بعد نتیش کمار نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب ادھر ادھر کہیں نہیں جانا ۔انھوں نے کابینہ میں توسیع جلد کر دی جائے گی ۔ نتیش کمار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی کے ساتھ ہم پہلے بھی حکومت میں رہے ہیں اس لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، ہمارا مقصد بہار کی ترقی ہے اور ہم نے بہار کی ترقی کے لیے یہ فیصلہ لیا ہے ۔ علاوہ ازیں اب اگر بہار اسمبلی کی بات کریں تو کل 243؍سیٹوں میں سے حکومت سازی کے لیے صرف 122؍سیٹوں کی ضرورت تھی جبکہ نتیش کمار کو 127؍اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ بی جے پی کے 78؍اراکین ، جے ڈی یو 45؍اراکین ، ہم کے 4؍اراکین اور ایک آزاد رکن اسمبلی کی حمایت ملی ہے ۔آر جے ڈی صوبہ کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر 79؍اراکین رکھتی ہے جبکہ کانگریس 19؍، سی پی آئی (مالے )ایل12؍ ، سی پی ایم 2؍سی پی آئی 2؍سیٹ ،ایم آئی ایم ایک سیٹ ،اس طرح کل اپوزیشن کے طور پر اب 114؍سیٹ ہیں ۔ اکثریت سے محض 8؍سیٹ دور اپوزیشن رہ گیا ۔تیجسوی یادو نے اب بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں انتظار کرنا چاہئے ، پکچر ابھی باقی ہے ۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے گزشتہ 17؍مہینے میں کیے گئے کاموں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے وہ میری وجہ سے ہوا ہے ۔ میرے دبائو میں ہی نتیش کمار نے روزگار دینے کا کام کیا ہے ۔ دوسری جانب نئی حکومت تشکیل ہونے کے بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے نتیش کمار اور دیگر وزرا کو مبارکباد پیش کی ۔انھوں نے کہا کہ اب بہار میں این ڈی اے کی حکومت بن گئی ہے اور ترقی کی رفتار بڑھے گی ۔