تل ابیب:برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے جمعہ کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے اپنا منظور کردہ منصوبہ واپس لے لے۔ اس اقدام کو "غلط” قرار دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے تنازع مزید بڑھے گا۔سٹارمر نے کہا، "تنازعہ ختم کرنے یا قیدیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے اس کارروائی سے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ صرف مزید خونریزی لائے گی۔”وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تجویز کردہ اور ان کی سکیورٹی کابینہ کے منظور کردہ ایک منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ شہر کا "کنٹرول” سنبھال لے گی جس کے چند گھنٹے بعد سٹارمر کا یہ تبصرہ سامنے آیا۔گہرے ہوتے ہوئے انسانی بحران کے پیشِ نظر سٹارمر کی حکومت اسرائیل سے اپنے مطالبات میں تیزی لا رہی ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر کشیدگی کم کرے۔انہوں نے جمعہ کے روز کہا، اسرائیل کا غزہ میں اپنی جارحیت مزید بڑھانے کا فیصلہ غلط ہے اور ہم اس پر فوری نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "غزہ میں انسانی بحران ہر روز سنگین ہوتا جا رہا ہے اور حماس کے پاس اسرائیلی قیدی خوفناک اور غیر انسانی حالات میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، حماس کے ہاتھوں تمام قیدیوں کی رہائی اور مذاکراتی حل ہے۔”سٹارمر نے کہا، برطانیہ اور اس کے اتحادی "دو ریاستی حل کے حصے کے طور پر خطے میں امن کو محفوظ بنانے کے لیے ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن فریقین کی نیک نیتی سے مذاکرات میں شمولیت کے بغیر یہ امکان ہماری آنکھوں کے سامنے معدوم ہو رہا ہے۔ ہمارا پیغام واضح ہے: ایک سفارتی حل ممکن ہے لیکن فریقین کو تباہی کا راستہ چھوڑنا ہو گا۔












