اٹاوا (ہ س)۔کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بدھ کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے پر آئے غیر ملکی سفارت کاروں کی جانب اسرائیلی فوج کی طرف سے انتباہی فائرنگ کے واقعے کی "گہری تفتیش” اور ذمے داران کا "محاسبہ” کرے۔انیتا آنند نے ایکس” پلیٹ فارم پر لکھا "میں نے وزارت کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر کو طلب کریں تاکہ کینیڈا کی شدید تشویش سے آگاہ کیا جا سکے”، انھوں نے مزید بتایا کہ ان سفارت کاروں میں کینیڈا کے 4 شہری بھی شامل تھے جن کی طرف انتباہی گولیاں چلائی گئیں۔ یہ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک گروپ کی طرف اسرائیلی فوج کی فائرنگ پر اٹلی، اسپین، بلجیم، فرانس، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے سفارت کاروں کو "خطرے” میں ڈالنے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل وضاحت پیش کرے۔اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تایانی نے بھی بدھ کو جنین میں سفارت کاروں کی طرف فائرنگ کے واقعے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کیا، اور اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی انتباہی فائرنگ کو "ناقابل قبول دھمکی” قرار دیا۔تایانی نے "ایکس” پر اپنے ایک بیان میں لکھا: "ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی فوری وضاحت پیش کرے۔ سفارت کاروں کو دھمکانا ناقابل قبول ہے۔”انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے اٹلی کے نائب قونصل الیساندرو توتینو سے رابطہ کیا، "جو خیریت سے ہیں”، اور وضاحت کی کہ وہ ان سفارت کاروں میں شامل تھے جن پر جنین پناہ گزین کیمپ کے قریب فائرنگ کی گئی۔فرانس کے وزیر خارجہ ڑاں نوئل بارو نے بھی ’ایکس‘ پر لکھا ’جنین کا ایک دورہ، جس میں ہمارے ایک سفارت کار نے شرکت کی، اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ اسرائیلی سفیر کو وضاحت کے لیے طلب کیا جائے گا۔ ہم ان مشکل حالات میں اپنے عملے اور ان کے شان دار کام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔اٹلی اور فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسپین نے بھی سفارت کاروں پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کیا۔پرتگال بھی اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے نہ رہا، بدھ کو پرتگالی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے مغربی کنارے میں غیر ملکی سفارت کاروں کے دورے کے دوران کی گئی فائرنگ پر اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔پرتگالی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا "یہ واقعہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر ہم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پرتگال اس فائرنگ کی سخت مذمت کرتا ہے۔ بیان میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ غیر ملکی سفارت کاروں کے اس گروپ میں ایک پرتگالی سفارت کار بھی شامل تھا۔












