وزیر داخلہ حکومت ہند امت شاہ نے کہا ہمیں 2024؍کے نتائج پر کوئی شک نہیں ہے ، کانگریس اور دیگر اپوزیشن کی پارٹیاں بھی سمجھ چکی ہیں کہ انھیں اپوزیشن میں ہی بیٹھنا ہے
امت شاہ نے اپنے بیان میں اور کیا کہا
سی اے اے کسی سے شہریت چھیننے والا قانون نہیں ہے
ہمارے مسلمان بھائیوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے
سی اے اے کا مقصد صرف لوگوں کو شہریت دینا ہے
مسلمانوں کو بلا وجہ گمراہ کیا جارہا ہے جو ٹھیک نہیں
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍سے قبل بی جے پی اور مودی حکومت کی جانب سے ایک اور بڑا اعلان کیا گیا ہے ۔ وزیر داخلہ حکومت ہند امت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ لوک سبھا الیکشن سے قبل ملک میں سی اے اے قانون نافذ کر دیا جائے گا ۔اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر ، اتراکھنڈ میں یو سی سی کا نفاذ اور اب سی اے اے کے نفاذ کا اعلان کرکے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ اس مرتبہ 400 ؍سیٹیں جیت کر حکومت تشکیل دے گی ۔ انھوں نے ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) پرروشنی ڈالی ۔انھوں نے کہا کہ اس سے متعلق نوٹیفکیشن انتخابات سے پہلے آئے گا۔ اس سلسلے میں قواعد جاری کرنے کے بعد اسے لوک سبھا انتخابات سے پہلے نافذ کیا جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سی اے اے کسی سے شہریت چھیننے والا قانون نہیں ہے۔ ہمارے مسلمان بھائیوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اکسایا جا رہا ہے۔ سی اے اے صرف ان لوگوں کو شہریت دینا ہے جو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ظلم و ستم کا سامنا کرنے کے بعد یہاں آئے ہیں۔ یہ کسی کی ہندوستانی شہریت چھیننے کا قانون نہیں ہے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں 300؍ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی جبکہ این ڈی اے کو 400؍ سے زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ انھوں نے کہا کہ عام انتخابات کے نتائج پر کوئی شک نہیں یہاں تک کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی سمجھ چکی ہیں کہ انہیں دوبارہ اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ ہم نے آئین کے آرٹیکل 370؍ کی بیشتر دفعات کو ختم کر دیا، جس نے جموں و کشمیر کی سابقہ ریاست کو خصوصی درجہ دیا تھا۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ ملک کے عوام بی جے پی کو 370؍ اور این ڈی اے کو 400؍ سے زیادہ سیٹوں سے نوازیں گے۔پروگرام کے دوران ان سے راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی)، شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) اور کچھ دیگر علاقائی جماعتوں کے قومی جمہوری اتحاد میں شامل ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) خاندانی منصوبہ بندی میں یقین رکھتی ہے، لیکن سیاست میں نہیں۔ جب ایس اے ڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت چل رہی ہے لیکن ابھی تک کچھ طے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات این ڈی اے اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان نہیں بلکہ ترقی اور محض نعرے لگانے والوں کے درمیان ہوں گے۔کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو نیا یاترا‘ کے بارے میںامت شاہ نے کہا کہ نہرو-گاندھی خاندان کو اس طرح کے مارچ کے ساتھ آگے بڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ان کی پارٹی 1947؍ میں ملک کی تقسیم کے لیے ذمہ دار تھی۔پارلیمنٹ میں حکومت کے ذریعہ پیش کردہ وائٹ پیپر پروزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کیونکہ ملک کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے نے 2014؍ میں اقتدار کھونے سے پہلے کیا غلط کیا تھا۔ دس سال بعد ہماری حکومت نے معیشت کو بحال کیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے کوئی کرپشن نہیں ہے۔ اس لیے یہ وائٹ پیپر شائع کرنے کا صحیح وقت ہے۔ایودھیا میں رام مندر کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ ملک کے لوگ 500-550 ؍سال سے مانتے تھے کہ بھگوان رام کی پیدائش جس جگہ ہوئی تھی وہاں مندر بننا چاہیے۔ لیکن خوشامد کی سیاست اور امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کی اجازت نہیں دی گئی۔












