اسرائیل حماس جنگ کے سو سے زائد دن ہوچکے ہیں، اسرائیل اور حماس کی تازہ ترین جنگ فلسطین تنازع کی اب تک کی سب سے طویل، خونریز اور تباہ کن لڑائی ہے۔ یہ لڑائی سات اکتوبر کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر فضائی، بحری اور زمینی حملوں کے ساتھ اندھادھند گولہ باری کی جس نے بے مثال تباہی مچائی اور پورے خطے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اقوام متحدہ کے مانیٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ میں فلسطینیوں کی اکثریت کو بے گھر کر دیا ہے، غزہ کے آدھے سے زیادہ اسپتالوں کو مسمار کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اب سخت متاثرہ شمال میں اپنی کاروائیوں کو کم کر دیا ہے۔ لیکن جنوب میں جہاں حماس کے رہنماؤں کی موجودگی کا امکان ہے، وہاں وہ پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ علاوہ ازیں لبنان کی حزب اللہ ملیشیا اور اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ہر روز سرحد پار جھڑپوں میں مصروف ہیں۔اس وقت سب کی طرف سے بلکہ عالمی سطح پہ فلسطین پر ہونے والے ظلم کے خلاف جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں جنگ بندی کیا ہے؟ جنگ بندی مطلب اسرائیلی جارحیت پر پابندی۔ مطلب اب مزید بچے، عورتیں اور مرد نہ مارے جائیں۔لیکن کیا اس بندی سے سب صحیح ہو جائے گا؟ میں اس جنگ بندی کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں یہ جنگ بندی اب مداوا نہیں کر سکتی۔ یہ جنگ بندی اب ماؤں کے بیٹے واپس نہیں لا سکتی۔ یہ جنگ بندی بہنوں کے بھائی نہیں لا سکتی۔قارئین! غزہ اس وقت قابل رہائش رہا ہی نہیں ہے، غزہ تباہ ہو چکا ہے، غزہ ٹراماٹک ہو چکا ہے، غزہ لاشوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ غزہ اب پہلے جیسا نہیں ہو سکتا۔ یہ جو لوگ اب سو دن بعد بالآخر اپنا منہ کھولنے لگے ہیں، وہ عرب، امریکن یا ہندوستانی جن کو غزہ اب یاد آگیا ہے۔ ان کے جھانسے میں نہ آئیں۔ یہ سیلیبریٹیز، یہ برانڈ ایمبیسڈرز یہ جانتے ہیں اب جنگ بندی ہو جانے کی آخری چند دنوں میں اگر ہم کچھ بول لیں گے تو اپنی ساکھ بچالیں گے۔ لیکن آپ کو ہر وہ بچہ یاد رکھنا ہے جن کو یہودیوں نے مار دیا- ہر وہ ماں یاد رکھنی ہے جس نے خون کے آنسو روئے ہیں- ہر وہ باپ یاد رکھنا ہے جس نے آدھے خاندان کی لاشیں اٹھائیں- آپ کو غزہ نہیں بھولنا ہے، آپ کو فلسطینیوں کو نہیں بھولنا ہے، آپ کو اپنے اندر کے مسلمان کو نہیں بھولنا ہے۔آپ کو یاد ہے پانچ سال قبل جنوبی ہندوستان کے ریاست کیرالہ اور دنیا کے مختلف ممالک میں کئی کئی روز بارشیں ہوئی تھیں۔ کلائمیٹ چینج کا بہت بڑا اثر کیرالہ پہ بھی پڑا تھا۔ پانچ سال قبل ہماری ہی طرح کیرالہ کے لوگوں کو بھی بارشوں سے بہت محبت تھی۔ وہ ایک دن جب بارش شروع ہوئی تو وہاں کے لوگ بہت خوش تھے، لیکن وہ بارش پوری رات نہ رکی، اگلے پورے دن بھی بارش مسلسل جاری رہی۔ تیز رفتار بارش سے وہاں کے لوگوں کو پریشانی ہونے لگی، بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ایسی بارش جس میں بظاہر سب ٹھیک تھا کبھی کبھی آسمان کچھ گھنٹوں تک ایک دم سے صاف ہو جاتا، بجلی بھی نہیں کڑک رہی ہوتی۔ مگر اس دن ایک پانی کا ریلا سا تھا جو بہے جاتا تھا بہے جاتا تھا۔ تیسرے دن لوگوں کا صبر جواب دے گیا۔ پانی گھروں میں ٹھہرنے لگا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والا ایک نوجوان اس روز اپنے گھر کی چھت پہ کھڑے ہو کر اپنے گاؤں کے کئی کچے مکان زمیں بوس ہوتے دیکھ پریشان ہو گیا۔ لوگ ٹینٹ لگا کر باہر رہنے لگے، مگر بارش نہ رکی۔چوتھے روز وہ نوجوان آسمان کو دیکھتے ہوئے رونے لگا کیونکہ اب وہ نوجوان اور کیرالہ کے لوگ سب تھک گئے تھے۔ اس نوجوان کے گھر کے بلکل سامنے کچھ دوری پر سمندر کا کنارہ تھا۔ بارشوں کی وجہ سے پوری طرح سے لہریں افان مارتی گاؤں سے متصل باندھ تک پہنچ چکی تھی۔ اگر گاؤں کا باندھ ٹوٹتا تو پورا گاؤں ڈوب جاتا۔ چوتھا روز کشمکش کا دن تھا۔ پندرہ روز جی ہاں پورے پندرہ روز بارش مسلسل برستی رہی تھی۔ ان پندرہ راتوں میں اس نوجوان کا ٹراما شروع ہو گیا تھا۔ ہر رات جب خاموشی ہو جاتی اور گھر کے زمین پہ پانی کے قطرے گرتے ہی جاتے، تڑا تڑ برسنے والی وہ بارش، وہ پانی کا شور، وہ ذرا ذرا سی دیر میں کسی کچے مکان کی گرتی چھت، دیوار وغیرہ، سال 2018 میں کیرالہ میں آیا فلوڈ مجھے آج بھی یاد ہے۔ یقیناً میں وہاں موجود تو نہیں تھا لیکن کیرالہ فلوڈ پر بنی فلم "ایوری ون از اے ہیرو” جو گزشتہ سال آسکر ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوئی تھی، اسے ہی محسوس کر کے لکھ رہا ہوں- اس فلوڈ کے بعد سے اب اگر بارش تھوڑی دیر زیادہ برس جائے تو میں بذات خود بہت پریشان ہونے لگتا ہوں۔ بظاہر پندرہ دنوں بعد کیرالہ میں بارشیں تو رک گئیں سب ٹھیک ہو گیا لیکن کیا واقعی میں سب ٹھیک ہو گیا تھا؟ میں آپ کو بتاتا ہوں اس تباہی کا جو کیرالہ کی عوام نے برداشت کی۔پورے تین ماہ تک شہر کے نیٹورکس ٹھیک نہیں ہو سکے تھے، پانی کے پائپ بری طرح پھٹ گئے تھے۔ اسکول کی عمارتیں گر گئیں اور سب سے بڑا نقصان جانتے ہیں؟ جلائی اور اگست میں گرم علاقوں میں رہنے والے لوگ جانتے ہوں گے، ان دو ماہ میں چاول کی فصل تیار ہوتی ہے۔ کھڑی فصلیں پندرہ روزہ بارش کی وجہ سے تباہ ہو گئیں، یہ صرف فصلیں نہیں تھیں، شہر کے پچاس فیصد لوگوں کی کمائی کا ذریعہ تھیں۔ لوگ دکانوں، اسکولز اور کیمپوں میں رہنے لگے تھے۔ عورتیں گیس کی خاطر دور کسی کے گھر روٹی، چاول بنانے جایا کرتی تھیں۔ انکی حالت، انکے ادھ پھٹے کپڑے، بھوک سے کراہ رہے معصوم بچے، فلم دیکھ کر آج تک مجھے وہ سب کچھ مناظر نہیں بھولا۔ یہ ایک قدرتی آفت تھی جسے کیرالہ کے لوگ برداشت بھی کر گئے، نقصان بھی اٹھایا اور آج تک کیرالہ میں ساحلوں سے متصل لوگ بارشوں سے خوف زدہ ہیں۔ قارئین! اب غزہ کا سوچیں اسکی تباہی کا سوچیں، ان خاندانوں کا سوچیں۔ غزہ کوئی ٹرینڈ نہیں ہے… غزہ شہر ہے، لوگوں سے بھرا ہوا۔ جنہیں لاشوں میں تبدیل کر دیا گیا۔غزہ اب کبھی پہلے جیسا نہیں ہو سکتا، ہم سب جانتے ہیں۔ مرے ہوئے لوگ واپس نہیں آسکتے۔ آدھے آدھے خاندان ختم کر دیئے گئے وہ بھی واپس نہیں آسکتے۔ ایک ماں کے بچے واپس نہیں آسکتے۔ ایک بہن کا بھائی، ایک مرد کی بیوی واپس نہیں آسکتی۔ ذرا لاجیکل ہو کر سوچیں۔ ایک شہر سو سے زائد دنوں سے جارحیت کا نشانہ بن رہا ہے۔ وہاں کیا کیا نقصان ہوئے ہوں گے؟ اول تو مساجد شہید ہو چکیں… غیرت پہ وار۔ اسکول جل کر راکھ ہو گئے… علم کا زیاں۔ یونیورسٹی دھماکے میں اڑا دی گئی۔ ایک یونیورسٹی بننے میں بہت کچھ لگتا ہے… وسائل، پیسہ، فنڈز، محنت اور کئی سال۔ کئی سالوں کے لئے غزہ کے بچوں اور نوجوانوں کے لئے علم کے راستے روک دیئے گئے۔ اسپتالوں پہ حملے کر کے بھاری مشینری جلا دی گئی۔ یہ صرف سامان نہیں ہے، یہ صرف نام نہیں ہیں۔ کہاں سے آئے گا یہ سب واپس؟ کون لائے گا؟ گھر ٹوٹ گئے، پانی کا سسٹم تباہ ہو گیا، گیس لائنز برباد ہو چکی ہوں گی۔ غزہ میں اگر جنگ بندی ہو بھی جائے تو اگلے کئی سال جنگ کے آثار کہیں نہیں جائیں گے۔اب آپ سوچیں گے بڑا دکھ ہوا لیکن ہم بھلا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ حمایت بھی کر لیا، نعرے بھی لگا لئے لیکن اب غزہ جا کر ان سب چیزوں کو فکس تو نہیں کر سکتے ناں؟ ہاں نہیں کر سکتے لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں میں بتاتا ہوں۔ یہ جنگ بندی پہلے بھی ہو سکتی تھی ناں؟ بلکل ہو سکتی تھی اگر ہم اپنی آواز اٹھاتے، اگر دنیا کے نامور ادارے، اداکار، گلوکار، ایکٹیوسٹ اپنی آواز اٹھاتے- اگر مشہور برانڈز اس نسل کشی کا ساتھ نہ دیتے، اگر قومیت کے فرق کو مٹاکر ہر کوئی انسانیت کے لئے کھڑا ہوتا، لیکن وہ تمام ہالی ووڈ بالی ووڈ اسٹارز ہمارے لوگوں کے لئے نہیں بولے۔ انہوں نے سو سے زائد دنوں تک ہمارے لوگوں کو مرنے دیا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ یہودی تھے، عیسائی تھے، ہندو تھے۔ اور اسرائیل سے ان کے مفادات جڑے تھے۔ جی نہیں وہ سب اپنے اصل کے ساتھ اتنے بچے تھے کہ انہیں ہزاروں لاشیں نظر نہیں آئیں، جلتا شہر نظر نہ آیا۔ پھر ہماری غیرت کو کیا ہوا؟ ہماری مساجد جلا دی گئیں، وہاں میوزک بجایا گیا، ہمارے بچے مارے گئے۔ بے بسی کے مارے ہم کچھ نہیں کر سکے اور اب کیا؟ کیا اب سب پہلے جیسا ہو جائے گا؟اپنے فیصلے پہ قائم رہیں، خدارا اپنا اصل پہچانیں، اپنا وقار رکھیں اور صرف اور صرف اتنا کریں کہ جن چیزوں، لوگوں، ویب سائٹس اور کھانوں کو ہم نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے اس پر قائم رہیں۔ ہالی ووڈ بالی ووڈ انکی آدھی آڈینس ہم ہیں۔ اسرائیلی پراڈکٹس چاہے زیادہ نہ سہی لیکن ہم خریدتے ہیں- کم از کم اس سے اگلی نسل کشی میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ اگلی نسل کشی؟ حیران ہوئے ہوں گے آپ، بلکل اگلی نسل کشی۔ کیونکہ یہ اب ختم نہیں ہوگا۔ کچھ سال قبل یروشلم اس طرح کے ظلم کا شکار تھا آج غزہ اور کل فلسطین کا کوئی اور حصہ، یہ ختم نہیں ہوگا، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہود اپنے اصل پہ قائم رہیں گے۔ آپ کو بھی رہنا ہے۔مسلمان اکسٹریمسٹ(انتہا پسند) ہیں۔ انہیں ایسا کس نے کیا؟ یہودیوں اور ہندوؤں نے لیکن صفائی کون دے گا۔ ہماری طرف کی کہانی کون سنائے گا؟ ہم؟ لیکن ہم تو مصروف ہیں ناں، اس بات کا رونا رونے میں کہ فلاں کیوں نہیں بولا، فلاں کہاں ہے۔ یاد رکھیں وہ نہیں بولیں گے یہ انکا اصل روپ ہے۔ آپ کو انہیں کینسل کرنا ہے یہ آپ کا اصل روپ ہے۔ اور اگر آپ اس بات پہ اس فیصلے پہ نہیں ٹھہر سکتے تو پھر یہودیوں اور عیسائیوں سے شکوے چھوڑ دیں۔
کیونکہ غزہ ٹرینڈ نہیں حقیقت ہے۔
غزہ ظلم کی کہانی نہیں حقیقت ہے۔
غزہ فلم نہیں حقیقت ہے۔
غزہ کے لئے غیروں سے امید چھوڑ کر خود قدم اٹھائیں۔
قارئین! بے شمار مشکلات اور خطرات کے باوجود بھی غزہ کے صحافیوں نے غزہ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دۓ ہیں، اُنھیں شدید خطرات لاحق ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی دنیا تک صرف ایک خبر پہنچانے کے لیے صحافیوں نے اپنی جانوں کی بھی پَروا نہیں کی، اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے کئی صحافیوں کی جانیں چلی گئی ہیں- اسرائیلی حملے کے نتیجے میں غزہ میں اب تک کُل 113 صحافی مارے جا چکے ہیں، صحافیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اُنھیں جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے- دنیا کے مختلف ممالک کے صحافیوں کو ہر طرح کی سہولیات میسّر ہوتی ہیں، لیکن غزہ کے صحافیوں کو ہر لمحہ نہ صرف اپنی جانوں کا خطرہ ہے، بلکہ اُنھیں لائٹ، کھانا اور پانی کی سہولیات بھی میسّر نہیں ہیں- دنیا کے سب سے خطرناک اور سب سے تاریک جگہ سے وہ صحافت کے فرائض انجام دے رہے ہیں- ایک صحافی کی مَوت سے نہ صرف ایک صحافی کی زندگی ختم ہوتی ہے، بلکہ اُس کے ساتھ ہزاروں خبریں بھی ختم ہو جاتی ہیں- سب سے مشکل اور اندھیرے وقت میں بھی غزہ کے صحافی نہ صرف اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، بلکہ سچائی اور آزادی کے لیے لڑ بھی رہے ہیں-قارئین! پچھلے 75 سالوں سے انبیاء کرام کی پاک اور مہذب سرزمین پر ظلم وتشدد کے قہر ڈھائے جارہے ہیں، اسرائیل کی بربریت، جبر وتشدد، اور اقوام متحدہ کی سیاست میں معصوم فلسطینی بھائیوں کا خون بہہ رہا ہے، وہ فلسطین کی پاک اور خوبصورت سرزمین کو لال رنگ میں رنگنے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں-یاد رکھیں! ہر ظلم کی انتہا ہوتی ہے، ان شاءاللہ ان ماؤں کی آہیں، چیخ و پکار اور آنسو خدا رائیگا نہیں جانے دے گا۔دعا ہے کہ اے اللّہ دنیا بھر کی کافر و ظالم طاقتیں نہتّے اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اکٹّھا ہو کر میدان میں آ گئی ہیں، تُو فلسطینی مسلمانوں کی مدد فرما، ظالم طاقتوں کے غُرور کو خاک میں ملا دے اور اُن کے ظالمانہ پنجوں کو توڑ کر رکھ دے- آمین!











