واشنگٹن(ہ س)۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹامی بروس نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس بیان کی تصدیق ممکن نہیں کہ قیدیوں کے معاملے میں پیشرفت ہو رہی ہے۔العربیہ/الحدث سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ٹامی بروس نے کہا کہ "اس موقع پر میں اس پر بات نہیں کر سکتی کہ بنجمن نیتن یاھو نے کیا کہا۔غزہ میں خوراک کی تقسیم کے مرکز کے قریب ہونے والی ہلاکتوں پر بات کرتے ہوئے امریکی ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس وقت غزہ میں انتہائی نازک صورت حال کا سامنا ہے، کیونکہ یہ علاقہ اب ایک ’مکمل جنگی زون‘ بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی پہلو کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنجمن نیتن یاھو نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ قیدیوں کے معاملے میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے” تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی امید دلانا قبل از وقت ہو گا‘۔عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘کے مطابق ان کے بہ قول ہم ان لمحوں میں بھی چوبیس گھنٹے مسلسل کام کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کچھ کامیابی حاصل ہو گی۔اسی معاملے پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر نے زامبیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل یرغمالیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے، لیکن اس پر زیادہ امیدیں نہیں باندھنی چاہئیں کیونکہ "ماضی کے کچھ تجربے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔تاہم انہوں نے پھر اعادہ کیا کہ اسرائیل ایک ایسے معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے جو فائر بندی پر مشتمل ہو۔ ان کا کہنا تھا: "ہم اپنے تمام قیدیوں کو چاہے وہ زندہ ہوں یا جاں بحق، وطن واپس لانے کے لیے پْرعزم ہیں۔یاد رہے کہ مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔اسرائیلی حکام کے مطابق، سات اکتوبر 2023ء کو اغوا کیے گئے 251 افراد میں سے اب بھی 55 افراد غزہ میں قیدی بنائے گئے ہیں، جن میں سے کم از کم 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔












