ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور متھرا و کاشی کا نعرہ بھی نہیں آ رہا ہے کام ، سی اے اے اور یو سی سی کا بھی کھولا پٹارہ لیکن بہار کے بعد اب بھی دوسری ریاستوں کے اتحاد پر نظریں مرکوز
بی جے پی کیوں محسوس کر رہی ہے اب بھی خطرہ
ہندی بیلٹ اب بھی بی جے پی کے لیے خطرہ
303؍پر قبضہ کرنے والی بی جے پی میں ڈر
مہاراشٹر ، کرناٹک ، ہریانہ ، ہماچل میں خطرہ
ہندی بیلٹ میں کم ہو رہی ہیں بی جے پی سیٹیں
نئی دہلی : 29 جنوری ،سماج نیوز سروس:آئین ہند کو نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح بی جے پی ہندو توا کےایجنڈے کو نافذ کر نے کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کے باوجود عام انتخابات 2024؍میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے راہ آسان نہیں لگ رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب بھی بی جے پی ریجنل پارٹیوں کے گردطواف کر رہی ہے۔بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ اب کی بار 400؍کے پار لیکن سوال یہ ہے کیسے ؟ بی جے پی نے یقینا ہندی بیلٹ میں اپنی اچھی گرفت بنا لی ہے لیکن کیا محض ہندی بیلٹ سے بی جے پی کامیابی حاصل کر لے گی ؟ بہار پر بی جے پی کی نظر بہت پہلے سے تھی۔ بی جےپی کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اگر وہاں مہاگٹھ بندھن قائم رہا تو اس کی شکست یقینی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے جے ڈی یو صدر نتیش کمار کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور نتیش کمار نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اپنی سیاسی چال چل دی ۔ یہ اس وقت ہوا ہے کہ جب اجودھیا میں عظیم الشان رام مندر کی تعمیر ہو چکی ہے اور بی جے پی کی جانب سے کھلم کھلا متھرا اور کاشی کا نعرہ لگایا جا رہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اترا کھنڈ حکومت کی جانب سے یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کا پھر اعلان کیا گیا ہے اور مغربی بنگال میں سی اے اے کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی اور پی ایم مودی کو خوف ہے کہ اس سے کام چلنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مہاراشٹر اور کرناٹک کے ساتھ ساتھ تلنگانہ اور مغربی بنگال کو سادھنے میں لگے ہیں ۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اتحاد والی حکومت چل رہی تھی اس کے باوجود بی جے پی نے این سی پی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرایا تاکہ این سی پی اور مہاراشٹر کے اپوزیشن اتحاد کو کمزور کیا جا سکے ۔ شیو سینا کے ٹکڑے ہونے کے باوجود بی جے پی کو ادھو ٹھاکرے ، شرد پوار اور کانگریس سے خوف تھا ۔ اب بھی بی جے پی مہاراشٹر میں بہت مطمئن نہیں ہے کیونکہ اب بھی بی جے پی سی ایم شندے پر بہت یقین نہیں ہے۔اتر پردیش کے بعد سب سے بڑا صوبہ مہاراشٹر ہے جہاں سے 48؍لوک سبھا کی سیٹ آتی ہیں ۔ عام انتخابات 2019؍میں بی جے پی نے 23؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور اس وقت اس کا اتحاد شیو سینا کے ساتھ تھا ۔اب جبکہ شندے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ساتھ این سی پی اجیت پوار بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ خود بی جے پی کو کتنی سیٹ مل پائیں گی ؟ اگر تینوں مل کر میدان میں اترتے ہیں تو خود بی جے پی کی سیٹ کم ہو جائے گی اور الیکشن کے بعد کون کس کے ساتھ رہے گا کہہ پانا مشکل ہے ۔ بی جے پی نے 2019؍میں 303؍سیٹوں پر قبضہ کیا تھا لیکن یہ اس وقت ہوا ہے کہ جب سبھی ہندی بیلٹ پر تقریبا بی جے پی کاقبضہ ہو ا تھا۔گجرات کی سبھی 26؍سیٹوں پر قبضہ ، ہریانہ کی سبھی 10 ؍سیٹوں پر قبضہ ، راجستھان کی سبھی 25؍سیٹوں میں سے 24؍سیٹوںپر قبضہ ، مدھیہ پردیش میں 29؍سیٹ میں سے 28؍پر قبضہ ، کرناٹک میں 28؍میں سے 25؍سیٹوں پر قبضہ ، ہماچل پردیش میں سبھی 4؍سیٹوں پر قبضہ ، اتر پردیش میں کل 80؍میں سے 63؍سیٹوں پر قبضہ یا کچھ اور ریاست تو سوال یہ ہے کہ ان کے علاوہ بی جے پی کے پاس سیٹیں کہاں ہیں ؟ اس مرتبہ کرناٹک میں پوری سیٹیں ملنا ناممکن ہے ۔ ہریانہ کی بھی حالت خراب ہے ۔ یوپی میں اب بھی بی جے پی کو خوف ہے کیونکہ مایاوتی کیا فیصلہ لیتی ہیں اس پر بہت کچھ منحصر ہوگا ۔ ہماچل پردیش میں مشکل ہے ۔ راجستھان ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش ساری سیٹوں پر جیت آسان نہیں ہے ۔ یہی وہ میتھ ہے جس کا ڈر مودی کو ستا رہا ہے اور یہ ڈر بالکل جائز ہے ۔












