نئی دہلی۔ ایم این این۔ یونان اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے بھارت، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والی مجوزہ اقتصادی راہداری انڈیا۔ مڈل ایسٹ ۔ یوروپی اکنامک کوریڈور( آئی ایم ای سی) کو ایک تاریخی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف عالمی تجارت کو نئی شکل دے سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام اور خوشحالی کو بھی فروغ دے گی۔ایتھنز میں منعقدہ انرجی ٹرانزیشن سمٹ کے دوران یونان کی نائب وزیر خار جہ اور اسرائیل کی نائب وزیر خارجہ نے آئی ایم ای سیکی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ یونانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ایم ای سی دراصل خطے کے لیے “طویل المدتی استحکام کا حقیقی سرٹیفکیٹ” ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بھارت سے لے کر یورپ تک علاقائی انضمام کو فروغ دے گا اور تجارت، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ اسرائیلی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل اس منصوبے کو بے پناہ امکانات کا حامل سمجھتا ہے اور خود کو اس راہداری میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں ہے اور آئی ایم ای سی مستقبل کی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ای سی کا تصور پہلی بار 2023 میں سامنے آیا تھا۔ اس کا مقصد بھارت کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن، اسرائیل اور یونان کے ذریعے یورپ سے جوڑنا ہے۔ اس منصوبے میں بندرگاہیں، ریل رابطے، توانائی کے نیٹ ورک اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی شامل ہیں، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کو زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یونان اس منصوبے میں یورپ کے دروازے کے طور پر اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے مرکزی ٹرانزٹ حب کے طور پر سامنے آئے گا۔ بھارت کے لیے یہ راہداری نہ صرف برآمدات اور سپلائی چین کو مضبوط کرے گی بلکہ یورپ اور مغربی ایشیا کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات کو بھی مزید گہرا کرے گی۔












