غزہ (ہ س)۔قیدیوں کے امور کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے ایڈم بوہلر نے زور دیا ہے کہ غزہ میں موجود قیدیوں کی واپسی کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی بنیادی شرط ہے۔ انھوں نے پیر کے روز’فوکس نیوز‘کو دیے گئے انٹرویو میں کہا’اگر حماس جنگ بند کرنا چاہتی ہے تو اسے قیدیوں کو رہا کرنا ہو گا۔‘انھوں نے مزید کہا ’ہم حماس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چار امریکی قیدیوں کی لاشیں بھی واپس کرے۔‘ادھر العربیہ/الحدث” کے ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو دو ٹوک انداز میں اختیار دیا ہے کہ یا تو وہ غزہ میں جنگ ختم کرے یا امریکا کی حمایت سے دست برداری اختیار کرے۔ذرائع کے مطابق، غزہ میں کسی معاہدے پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکا کی یہ پالیسی خلیجی ممالک کے غیر معمولی دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔مزید بتایا گیا کہ امریکی دباؤ اس مرتبہ بہت شدید اور واضح ہے، اور اسرائیل ممکنہ طور پر ایک فیصلہ کن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر میں اس وقت تناؤ کی کیفیت ہے، جو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے سخت پیغام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔اس دوران یہ بھی واضح ہوا کہ امریکا اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جب کہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک با خبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ ’اگر آپ نے غزہ میں جنگ نہ روکی تو ہم آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔اسی ذریعے نے مزید کہا سیاسی لحاظ سے نیتن یاہو کے پاس جنگ روکنے کا راستہ موجود ہے کیونکہ کنیسٹ اور اسرائیلی عوام کی اکثریت اس کی حمایت کر سکتی ہے، مگر خود نیتن یاہو میں سیاسی عزم کی کمی ہے۔یاد رہے کہ نیتن یاہو نے اتوار کی شام غزہ میں کچھ غذای اشیاء داخل ہونے کی اجازت دی، جس کا اعلان اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک نئی وسیع زمینی کارروائی کے آغاز کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔اسرائیلی وزراء نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ فیصلہ امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا۔ یہ بات اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت” نے بتائی۔اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے کہا "اگر امداد کی اجازت نہ دی گئی تو پابندیوں کی دھمکی ہے، اور یہ دباؤ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہے۔اسی روز سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گوئر نے امداد کے معاملے پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کر دیا گیا۔ انھوں نے نیتن یاہو کے اس فیصلے کو "سنگین غلطی” قرار دیا، اور کہا کہ یہ اقدام اتفاقِ رائے سے نہیں کیا گیا۔مشیر قومی سلامتی، تساحی ہنگبی نے بن گوئر پر "اشتعال انگیزی” کا الزام لگایا۔بعد ازاں نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ غزہ میں امداد کی ایک محدود مقدار داخل ہونے دی جائے گی، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے کہ حماس امداد پر قابض نہ ہو۔یہ بھی بتایا گیا کہ یہ اقدام عارضی طور پر کیا جا رہا ہے، اور 24 مئی سے ایک امریکی سیکیورٹی کمپنی امدادی سامان کی نگرانی اور تقسیم کی ذمہ داری سنبھالے گی، جو صرف متعین انسانی علاقوں تک محدود ہو گی۔اس وقت امداد صرف ان علاقوں میں پہنچے گی جہاں شدید لڑائی جاری نہیں۔صدر ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں میں زور دیا ہے کہ غزہ کے شہریوں تک فوری امداد پہنچنی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان غزہ، ایران اور یمن کے حوالے سے پالیسی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے تمام امداد غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھی تھی تاکہ حماس پر دباؤ ڈال کر باقی ماندہ قیدی کی رہائی ممکن بنائی جا سکے، مگر جنگ بندی کی کوئی واضح یقین دہانی نہیں دی گئی تھی۔












