آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈکے زیر اہتمام ملی جماعتوں کی جمعیۃ علماہند کے صدر دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس ،صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کرنے کا اعلان ،قانونی لڑائی جاری رکھنے کا فیصلہ
مسجد کے مسئلہ پر پریس کانفرنس میں کس نے کیا خاص کہا
ضلعی عدالت کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے : مولانا رسیف اللہ حمانی
عقیدت پر فیصلہ دینا ہے تو دستاویز وں کو آگ لگا دو : مولانا ارشد مدنی
جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں ہونا چاہئے ورنہ :مولانا محمود مدنی
مولانا اصغر امام مہدی ، ملک معتصم خان ،نیاز فاروقی کا بھی خطاب
نئی دہلی :ضلعی عدالت وارانسی کے فیصلہ کو خارج کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملی تنظیموں نے واضح طور پر کہا کہ وارانسی کے گیان واپی علاقہ میں واقع جامع مسجدکے تہہ خانے میں کبھی پوجا نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر کی گئی ہے باوجود اس کے نچلی عدالت سے لے کر عدالت عظمیٰ تک نے مسلم فریق کی سماعت سے انکار کیا جو بہت ہی تشویشناک ہے چنانچہ ہم اب صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کریں گے اور اپنی شکایت درج کراتے ہوئے مطالبہ کریں گے کہ وہ انصاف قائم کریں،اس کے ساتھ ہی ہماری قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ جمعیۃ علمائ ہند کے صدر دفتر آئی ٹی او پر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس سے آل انڈیا مسلم پرنسل لابورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،صدر جمعیۃ علمائ ہند مولانا سید ارشد مدنی، صدر مرکزی جمیۃ اہل حدیث ہند مولانا اصغر امام مہدی، صدر جمعیۃ علمائ ہند مولانا سید محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان،آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ،آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ مجلس عاملہ کے رکن کمال فاروقی اور مولانا نیاز احمد فاروقی نے خطاب کیا ۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ گیان واپی مسجد کی نچلی منزل میں راتوں رات لوہے کی گرل کاٹ کر اور مورتیاں رکھ کر بہت عجلت میں پوجا کا شروع کروادیا جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن مدعی کے ساتھ مل کر انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے آر ڈر کے خلاف اپیل کے حق کو متاثر کرنا چاہتا تھا، ہم اس ملی بھگت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حالانکہ عدالت نے انتظامیہ کو اس کام کے لئے 7؍ دن کا وقت دیاتھاتاہم ہمیں وارانسی ڈسڑکٹ جج کے فیصلہ پر بھی سخت حیرت اور افسوس ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فیصلہ انتہائی غلط اور بے بنیاد دلیل کی بنیاد پر دیا گیا کہ گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں 1993 ؍تک سومناتھ ویاس کا پریوار پوجا کرتا تھااور اس وقت کی ریاستی سرکار کے حکم پر اسے بند کردیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ 17 ؍جنوری کو اسی کورٹ نے تہہ خانے کو ضلعی انتظامیہ کی تحویل میں دے دیا تھا۔ہم یہ بات واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس تہہ خانے میں کبھی بھی پوجا نہیں ہوئی تھی، ایک لغو اور بے بنیاد دعوے کو بنیاد بناکر ضلعی جج نے اپنی سروس کے آخری دن انتہائی قابل اعتراض اور بے بنیاد فیصلہ دیا ہے۔اسی طرح آرکیولوجیکل سروے کی رپورٹ کا بھی ہندو فریق نے پریس میں یکطرفہ طور پر انکشاف کرکے سماج میں انتشار پیدا کیا ہے حالانکہ ابھی عدالت میں نہ تو اس پر کوئی بحث ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق۔ ابھی اس رپورٹ کی حیثیت محض ایک دعوے کی ہے۔مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مسئلہ صرف گیان واپی مسجد تک محدود نہیں ہے بلکہ جس طرح متھرا کی شاہی عیدگاہ، دہلی کی سنہری باغ مسجد ، شاہی جامع مسجد و دیگر مساجد اور ملک کے طول و عرض میں متعدد مساجد اور وقف کی جائیدادوں پر مسلسل بے بنیاد دعوے کئے جارہے ہیں اور جو طاقتیں مسجدوں کی جگہ مندر قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں انھیں سہولت فراہم کرائی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون پر مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے، اس نے ملک کے مسلمانوں کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بابری مسجد کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے آستھا کی بنیاد پر دیے گئے فیصلے نے بدنیت لوگوں کو راستہ دکھا دیا ہے کہ عدالت میں اب فیصلے عقیدت کی بنیاد پر ہوں گے لہٰذا جو بھی دستاویز ات ہیں ان کو آگ لگا دی جائے ۔ اب یہ دیکھا جائے گا کہ اکثریت کی عقیدت کیا ہے اور اس پر فیصلہ ہوگا تو یہ اصل بات سوچنے والی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت ہی ملک کے لیے المیہ ہے کہ ملک کا مسلمان یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اب نچلی عدالت سے لے کر عدالت عظمیٰ تک فیصلے ثبوت کی بنیاد پر نہیں عقیدت کی بنیاد پر ہو رہے ہیں ۔ مولانا محمودمدنی نے کہا کہ ملک کو ہم سب نے مل کر آزاد کیا لیکن ہمیں حصہ دار بنانا تو دور دشمنوں کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے ۔ہمیں بدنام کردیا ، رسوا کر دیا ۔ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے ایسا بنا دیا ۔انھوں نے کہا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں ہونا چاہئے ، ورنہ یاد رکھئے گا کہ لاٹھی ہاتھ بدلتی بھی ہے ۔ اچھا کرنا ہے تو مل کر کرنا ہے ۔












