برسلز (ہ س)۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکوٹر کریم خان کے خلاف مبینہ جنسی بے راہ روی کی تحقیقات اختتام کے قریب ہیں جس کے دوران انہوں نے عارضی طور پر دفتر سے رخصت لے لی ہے۔عالمی عدالت کے لیے یہ نیا معاملہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں اور کریم خان کی جگہ کسی نئے شخص کے تعین کا کوئی واضح طریقہ کار نہیں ہے۔ اس پیش رفت سے آئی سی سی کے لیے مزید غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جسے امریکی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی بقا کے بحران کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں اسرائیلی حکام کے لیے گرفتاری کے وارنٹ پر عائد کی گئیں۔خان کے دفتر نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے داخلی نگرانی کی تحقیقات ختم ہونے تک رخصت لے لی ہے۔نیز کہا گیا کہ آئی سی سی کے دو ڈپٹی پراسیکیوٹرز اس دوران ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔خان کے وکلاء نے فوری طور پر تبصرہ کی تحریری درخواست کا جواب نہیں دیا۔پراسیکوٹر نے غلط روی کے ان الزامات کی تردید کی ہے جن کی اطلاع گذشتہ سال اکتوبر میں عدالت کی گورننگ باڈی کو دی گئی تھی۔جب خان کے خلاف الزامات سامنے آئے تو کئی این جی اوز اور آئی سی سی کے عملے کے ارکان نے تحقیقات کی مدت کے دوران عارضی طور پر ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا لیکن ابتدائی طور وہ اپنے عہدے پر برقرار رہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ خان نے گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں سے بات کی تھی جس کے بارے میں خیال تھا کہ یہ الزامات کی ایک ماہ طویل بیرونی تحقیقات کا حتمی انٹرویو تھا۔یہ واضح نہیں تھا کہ دسمبر میں شروع ہونے والی تحقیقات کب ختم ہوں گی۔آئی سی سی میں اس وقت اسرائیل-حماس تنازعہ اور یوکرین جنگ کے حوالے سے جنگی جرائم کی اعلیٰ سطحی تحقیقات جاری ہیں۔خان کی درخواست پر آئی سی سی نے یوکرین سے بچوں کو ملک بدر کرنے کے شبہے میں صدر ولادیمیر پوتن اور غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ دونوں ہی ممالک عدالت کے رکن نہیں ہیں، دونوں الزامات کی تردید کرتے ہیں اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو مسترد کرتے ہیں۔اسرائیل کے طرزِ عمل کے بارے میں آئی سی سی کی تحقیقات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ نے خان پر پابندیاں عائد کر دیں جں کے بارے میں آئی سی سی کے صدر کا خیال ہے کہ ان سے ازخود عدالت کا وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔












