تل ابیب (ہ س)۔اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں ایک نیا اور بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فوج نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ روز کے دوران اسرائیلی افواج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں مکمل حملے شروع کیے اور اپنی افواج کو تعینات کیا تاکہ ان علاقوں پر عملی کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ فوج کے مطابق یہ کارروائیاں جنگ کے مقاصد کے حصول کا حصہ ہیں جن میں قیدیوں کی رہائی اور حماس تنظیم کا خاتمہ شامل ہے۔اس سے قبل اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بعد وسیع کی جائیں گی، بشرطیکہ اس وقت تک غزہ کے بارے میں کوئی نیا معاہدہ نہ ہو جائے۔ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک کا اپنا کئی روزہ دورہ مکمل کر لیا، اور ابھی تک کسی نئے معاہدے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔جمعہ کے روز فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا نے بتایا کہ جمعرات کی شام سے غزہ کی پٹی کے شمال میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 100 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غزہ میں حماس کی وزارت صحت نے بتایا کہ ان حملوں میں 93 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ادھر اقوام متحدہ کے انسانی امور کے انڈر سیکریٹری جنرل ٹام فلیچر نے جمعہ کے روز کہا کہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے کسی متبادل امریکی منصوبے پر وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے پاس اس مقصد کے لیے ایک قابلِ اعتماد منصوبہ موجود ہے اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار امدادی پیکج غزہ میں داخلے کے لیے تیار ہیں۔ فلیچر نے اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ امداد کی تقسیم کے لیے کوئی متبادل طریقہ تجویز کر رہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وقت ضائع نہ کریں، کیوں کہ ہمارے پاس اس وقت بھی ایک مؤثر منصوبہ موجود ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے مسلسل پچھتر دنوں سے غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ روکا ہوا ہے۔ اسرائیل نے جمعے کے روز ٹام فلیچر کو تنقید کا نشانہ بنایا کیوں کہ انھوں نے سلامتی کونسل سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ غزہ میں ممکنہ نسل کشی کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھائے گی، جہاں ماہرین نے قحط کے حوالے سے شدید انتباہ جاری کیا ہے۔ فلیچر نے اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا "کیا آپ مؤثر اقدام کریں گے تاکہ نسل کشی روکی جا سکے اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام یقینی بنایا جا سکے؟اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی دانون نے جمعہ کے روز ٹام فلیچر کے نام ایک خط میں ان پر سیاسی خطبہ” دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انھوں نے "نسل کشی” جیسے لفظ کو اسرائیل کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ دانون نے سوال اٹھایا کہ فلیچر نے یہ بات کس اختیار کے تحت کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہل کار کی حیثیت سے ان کا یہ بیان غیر مناسب، غیر ذمہ دارانہ اور جانب داری کا مظہر تھا۔ بین الاقوامی قانون میں نسل کشی سے مراد کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو جزوی یا کلی طور پر ختم کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، اور اس میں قتل، جسمانی یا ذہنی اذیت پہنچانا، یا ایسے حالات پیدا کرنا شامل ہے جن سے ان کی مکمل تباہی ممکن ہو۔یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس نے جنوبی اسرائیل میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔ غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 53,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے حماس پر امدادی سامان چوری کرنے کا الزام لگایا ہے، جسے حماس نے رد کیا ہے، اور دو مارچ سے اب تک تمام امدادی سامان کی غزہ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسرائیل نے یہ شرط رکھی ہے کہ جب تک بقیہ تمام قیدی رہا نہیں کیے جاتے، کسی بھی قسم کی امداد غزہ نہیں پہنچائی جائے گی۔عالمی بھوک کی نگرانی کرنے والے ایک ادارے نے پیر کے روز خبردار کیا تھا کہ غزہ کی آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ، یعنی پانچ لاکھ افراد، قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا "غزہ میں بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔












