ریاض :جمعرات کو اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے دو قصبوں، عين بعال اور البازوریہ کے درمیان ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صبح سے صور شہر، اس کے آس پاس کے گاؤں اور لیطانی ندی کے کنارے پر اسرائیلی جاسوسی طیاروں کی مسلسل پرواز جاری رہی ہے۔اسرائیلی افواج نے آج صبح فجر کے وقت عیتا الشعب کے مضافاتی علاقے ابو طویل میں واقع خصوصی ضروریات کے بچوں کے ایک اسکول کی عمارت کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں نے ملک کے مشرقی علاقے البقاع میں جنّتا اور قوسایا کو نشانہ بنایا، اور یہ کارروائیاں حزب اللہ کے ایک مرکز کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔گذشتہ منگل کو اسرائیلی حملے نے بیروت سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں الجیہ قصبے کے نواح میں موجود ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد 27 نومبر سے جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے باوجود، اسرائیل تقریباً روزانہ جنوبی اور مشرقی لبنان پر فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔اسرائیلی افواج اب بھی پانچ اسٹریٹجک مقامات پر موجود ہیں، جو سرحد کے دونوں طرف نگرانی کرتی ہیں۔گذشتہ ہفتے لبنانی حکومت نے فوج کی تیار کردہ ایک عملی منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد ملک میں موجود تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانا ہے۔ یہ اقدام اس معاہدے کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے جس کی نگرانی امریکہ کر رہا ہے۔جنوبی لبنان کے بیشتر علاقوں میں فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ کی عارضی امن قائم رکھنے والی فورس (یونفیل) کی معاونت حاصل ہے۔حزب اللہ نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی اور واضح کیا کہ وہ اپنے ہتھیار اس وقت تک نہیں چھوڑیںگے جب تک اسرائیلی فوج کی واپسی، حملوں کا اختتام اور جنگ کے دوران اسرائیل کے زیرِ حراست لبنانی قیدیوں کی رہائی نہ ہو جائے۔












