غزہ:اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ جمعرات کو سماجی پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہماری افواج دن رات تمام محاذوں پر برسرِپیکار ہیں تاکہ اسرائیل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے”۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں حماس کی جانب سے استعمال ہونے والے کئی زیرِ زمین راستے تباہ کر دیے ہیں۔ فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران متعدد مسلح افراد مارے گئے جبکہ جنگی ڈھانچے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔غزہ میں سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ جنوب میں واقع زیتون محلہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے اور 80 فیصد آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جبالیہ مسلسل فضائی حملوں اور دھماکوں کی زد میں ہے، جہاں اسرائیلی فوج روبوٹ، بھاری مشینری اور کھدائی کرنے والی مشینوں کے ساتھ روزانہ سات سے زائد بارودی دھماکے کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کواڈ کاپٹر ڈرون بھی گھروں کی چھتوں پر دھماکہ خیز مواد گرا رہے ہیں، جس سے تباہی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ معلومات خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے حوالے سے سامنے آئیں۔ نامہ نگارکے مطابق بدھ کے بعد سے اسرائیلی بمبار ی میں غزہ میں کم از کم 52 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے اگست کے آغاز سے غزہ کے زیتون محلے پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔ ان میں بارودی روبوٹوں کے ذریعے مکانات کو اڑایا جا رہا ہے، بھاری توپ خانے کا استعمال اور اندھا دھند فائرنگ کی جا رہی ہے، جبری بے دخلی بھی جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ سب ایک اسرائیلی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد تباہ حال غزہ کے بقیہ حصے پر دوبارہ قبضہ جمانا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی تقریباً 75 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔












