غزہ میں قحط سے اموات کی تعداد 300 سے متجاوز
غزہ، 25 اگست (یو این آئی) غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں صبح سے اب تک مزید 64 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، شہدا میں بچے اور امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں، غزہ میں مجموعی شہادتوں کی تعداد 62 ہزار 686 ہوگئی۔قطری نشریاتی ادارےالجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی پر حملےکے منصوبے پر پیش رفت کے ساتھ غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت آگئی ہے جس کے نتیجے میں صہیونی حملوں میں آج صبح سے اب تک 64 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ میں اسرائیل نے پانچ فلسطینیوں کو شہید کر دیا جو امداد کے متلاشی تھے۔ناصر میڈیکل کمپلیکس کے طبی ذرائع کے مطابق وہ افراد خوراک کے انتظار میں امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ جی ایچ ایف کے فوڈ ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کے قریب موجود تھے۔اس سے قبل غزہ کے اسپتالوں کے طبی ذرائع نے بتایا تھا کہ کم از کم سات امداد کے متلاشی افراد شہید ہو چکے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 62 ہزار 686افراد شہید اور ایک لاکھ 57 ہزار 951 زخمی ہوچکے ہیں۔مئی کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ جی ایچ ایف کے قیام سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہونے والے امداد کے متلاشی افراد کی کل تعداد 2095 تک پہنچ گئی ہے۔
غزہ کے خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی فورسز کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی منتقلی کے دوران ہلاک ہونے والوں میں صحافی، ایمبولینس عملہ اور سول ڈیفنس کے ارکان بھی شامل ہیں۔اسرائیلی طیاروں نے صبح سے غزہ کے وسیع علاقوں پر شدید فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے۔ اس سے پہلے خان یونس میں پناہ گزینوں کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی فوج نے جنوبی اور مشرق صبرا اور مشرقی التفاح میں دھماکہ خیز روبوٹ نصب کیے اور شہر کے جنوب مشرقی علاقے زیتون میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا۔ شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں بھی مکانات کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 300 افراد بھوک سے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 117 بچے شامل ہیں۔












