قاہرہ (یو این آئی)مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا مقصد فلسطینیوں کو بھوکا مار کر ان کی جدوجہد کو کچلنا ہے۔مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا مقصد سیاسی مقاصد کا حصول یا یرغمالیوں کی رہائی نہیں رہا بلکہ اب اسرائیل کی غزہ میں جنگ عوام کو بھوکا رکھنا، ان کی نسل کشی اور فلسطینیوں کی جدو جہد کو ختم کرنا بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مصر نا تو فلسطینیوں کی جلا وطنی میں حصہ لے گا اور نا ہی ایسے کسی فیصلے کی حمایت کرےگا۔ان کا کہنا تھا اسرائیل کے زیر قبضہ رفح گزرگاہ سے امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل بڑی رکاوٹ ہے، مصری رفح گزرگاہ پر اب بھی امدادی سامان سے لدے 5000 ٹرک کھڑے ہیں۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور گزشتہ روز بھی اسرائیل نے حملے کرتے ہوئے خوراک کے متلاشی 51 افراد سمیت مزید 74 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
اردن نے کہا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے غزہ جانے والے امدادی قافلے پر حملہ کر دیا جو چند ہی دنوں میں پیش آنے والا ایسا دوسرا واقعہ ہے۔ نیز اردن نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ بار بار ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے سختی سے کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔حکومتی ترجمان محمد المومنی نے رائٹرز کو بتایا کہ انسانی امداد کے 30 ٹرکوں پر مشتمل قافلہ دستخط شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کے باعث اپنی آمد میں تاخیر کا شکار ہوا۔












