جمعرات کو برکس کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کا پہلا دن بظاہر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی نذر ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس اجلاس میں جنگ کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات پہلی بار آمنے سامنے آئے۔اجلاس کے آغاز میں جہاںوزیر خارجہ نے بین الاقوامی پانیوں، بشمول آبنائے ہرمز، میں ’محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری آمدورفت‘ کی ضرورت پر زور دیا تو وہیں دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ متحدہ عرب امارات پر خاصے برہم نظر آئے۔یاد رہے کہ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں تاہم 2024 میں روس کے شہر قازان میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے دوران اس کی رکنیت میں توسیع کی گئی تھی۔نئے اراکین میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کو شامل کیا گیا۔ایران اور متحدہ عرب امارات 2024 سے برکس کے رکن ممالک ہیں۔ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر میزائل حملے کیے جس کے بعد سے ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور آج کے اجلاس میں بھی یہ صورتحال دیکھنے کو ملی۔












