لکھنؤ،سماج نیوز سروس: اتر پردیش کے سرکاری محکمۂ آرکائیوز کی جانب سے اپنے 77 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ’ہندوستانی علمی روایت میں مخطوطات کی اہمیت اور نئی نسل کے لیے اس کی افادیت‘کے عنوان سے ایک روزہ قومی سمپوزیم اور دستاویزی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سمپوزیم وزیرِ ثقافت و سیاحت حکومت اتر پردیش جے ویر سنگھ کی رہنمائی میںانعقاد کیا گیا ۔اس سمپوزیم کے مہمان خصوصی لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر اجے تنیجا نےاپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مخطوطات کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت، فکری روایت اور علمی سرمایہ کے امین ہوتے ہیں۔ یہ صرف قدیم دستاویزات نہیں بلکہ ہماری تاریخ، فلسفہ، ادب، مذہب، سائنس اور سماجی اقدار کے آئینہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی علمی روایت دنیا کی قدیم ترین روایات میں شمار ہوتی ہے اور یہاں مخطوطات کی تاریخ تقریباً چھ ہزار سال پر محیط ہےجن میں ہمارے اسلاف کی دانش، تجربات اور فکری بصیرت محفوظ ہے۔پروفیسر اجے تنیجا نے کہا کہ موجودہ دور میں جب نئی نسل تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہو رہی ہے، ایسے میں مخطوطات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہےکیونکہ یہ ہماری تہذیبی جڑوں سے وابستگی کا احساس دلاتے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنی علمی و ثقافتی وراثت سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی تاریخ اور تہذیب کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مخطوطات میں صرف مذہبی یا ادبی مواد ہی نہیں بلکہ طب، فلکیات، ریاضی، فلسفہ، موسیقی اور دیگر علوم کے نادر ذخائر بھی موجود ہیں، جن پر مزید تحقیق کی بے پناہ گنجائش ہے۔ اگر ان علمی خزانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ اور ڈیجیٹلائز کیا جائے تو آنے والی نسلیں بھی اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں گی۔ سمپوزیم کے پہلے اجلاس میں پروفیسر سمن مشرا نے کہا کہ آرکائیوز قوم کی یادداشت کے مراکز ہوتے ہیںلہٰذا ان کا تحفظ معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور نئی نسل کو اس جانب آگے آنا چاہیے۔ ڈاکٹر سشیل کمار پانڈے نے کہا کہ قدیم مخطوطات ہندوستانی فکر و دانش کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہمیں اپنی علمی روایت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔پروفیسر ارون کمار یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ مخطوطات ہمیں قدیم دانشوروں، رشیوں اور منیوں کی علمی روایت سے جوڑتے ہیں۔ دوسرے اجلاس میں لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ سنسکرت کے ڈاکٹر ستیہ کیتو نے کہا کہ مخطوطات علم و دانش کے اہم دستاویزات ہیں اور اگر ہم قدیم علمی روایت کا تحفظ و فروغ چاہتے ہیں تو اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ڈاکٹر دیپتی جیسوال نے کہا کہ قرون وسطیٰ سے مخطوطات کے واضح شواہد ملتے ہیں اور مغلیہ دور کے اہم مخطوطات سے اس عہد کی تاریخی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔پروفیسر انل کمااور ڈاکٹر سوربھ مشرا نے حکومت ہند کے ’’گیان بھارت مشن‘‘ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے ملک بھر کے مخطوطات کو ڈیجیٹل پورٹل پر عام لوگوں کے لیے دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مخطوطات ہندوستانی علمی روایت اور تاریخی وراثت کے درمیان مضبوط رابطے کا کام انجام دے رہے ہیں۔سمپوزیم میں مختلف جامعات اور کالجوں کے تقریباََ ایک سو پچاس طلبہ و طالبات نے شرکت کی جنہیں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ سمپوزیم کے اختتام پر ڈائریکٹر امت کمار اگنی ہوتری اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وجے کمار سریواستو نے تمام مہمانوں اور شرکاکا شکریہ ادا کیا۔












