غزہ (یو این آئی) غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری تھمنے کا نام نہیں لے رہی، تازہ حملوں میں مزید 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ کے اسپتالوں کے ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح سے اب تک اسرائیلی فوج کے حملوں میں 61 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان شہدا میں 19 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔اسرائیل کی جانب سے جبالیا میں ایک اسکول کے قریب حملہ کیا گیا جس میں کم از کم 5 افراد شہید ہوئے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں بھوک کی شدت سے مزید 4 فلسطینی انتقال کر گئے جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔ جس کے بعد اسرائیل کے مسلط کردہ قحط سے اموات کی تعداد317 ہو گئی۔دوسر ی جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپے مارے ہیں اور ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں صحافی، کارکن اور رہا ہونے والے قیدی شامل ہیں۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکڑوں ملازمین نے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کو خط میں غزہ میں قتل عام کو نسل کُشی قرار دینے کا مطالبہ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے کرکٹر عثمان خواجہ نے آسٹریلوی وزیراعظم اینتھونی البانیز سے ملاقات کی اور اسرائیل اور نیتن یاہو پر پابندیوں کا مطالبہ کیا۔غزہ شہر کے گرد و نواح میں اسرائیلی فوج کے حملے تیز ہوگئے ہیں تاکہ وہاں قبضے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ادھر انسانی تنظیموں کی جانب سے عام شہریوں کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسرائیل گھروں اور عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ 8 اگست اور 25 اگست کے درمیان محض چند دنوں میں غزہ کے الزيتون محلے کا بڑا حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔ 8 اگست کی تصویر میں درجنوں عمارتیں صحیح سلامت نظر آتی ہیں اور کئی خیمے بھی موجود تھے، لیکن 25 اگست کی تصویر میں وہی علاقہ زیادہ تر ملبے میں بدل چکا تھا اور خیمے بھی غائب ہو چکے تھے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتائی۔غزہ شہر میں الزيتون اور التفاح محلوں کے کئی رہائشی پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اسرائیلی فضائیہ روزانہ ان علاقوں پر بم باری کر رہی ہے، اور درجنوں گھروں کو دھماکوں سے اڑایا جا چکا ہے۔ نمائندے کے مطابق شہر کے مختلف محلوں خاص طور پر الزيتون میں گھروں کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز اپنی بکتر بند گاڑیاں شمالی غزہ میں الصفطاوی محلے کے داخلی راستوں کی جانب بھیجیں، اور اس دوران توپ خانے اور فضائیہ کی جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ محلہ شمالی غزہ کا آخری رہائشی علاقہ سمجھا جا رہا ہے جس پر فوج قبضہ جما رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق الصفطاوی اور جبالیا النزلہ پر بھی بھاری گولہ باری ہوئی اور اسرائیلی ٹینک آگے بڑھتے دکھائی دیے۔صفطاوی کے قریبی رہائشیوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دن کے دوران انھیں علاقہ خالی کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ یہ بات فرانس پریس خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے غزہ کی بیشتر آبادی تباہی اور بربادی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق بیس لاکھ سے زائد آبادی والی غزہ کی پٹی کے بیشتر باشندوں کو کم از کم ایک مرتبہ اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے تاکہ بم باری اور موت سے بچ سکیں۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ جنگ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ابھی تک اسرائیل نے اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا جو قطر اور مصر نے اس ماہ پیش کی تھی اور جسے حماس نے قبول کر لیا تھا۔ اس تجویز میں 60 روزہ ابتدائی جنگ بندی، غزہ میں قید یرغمالیوں کی دو مرحلوں میں رہائی اور اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل مسلسل یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ پورے غزہ پر قابو پانے اور حماس کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہے۔












