تہران (ہ س)۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ بیانات کے تبادلے کے دوران، ایرانی حکام نے ملک میں یورینیم کی افزودگی روکنے سے مکمل انکار کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اور سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے جنرل اسماعیل کوثری نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔جمعرات کے روز مرصد ایران” ویب سائٹ نے جنرل کوثری سے منسوب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ "امریکی دباؤ کا مقصد ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے فطری حق کے حصول سے روکنا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی دنیا میں کسی بھی جوہری پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے”۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جوہری توانائی کا استعمال طب، زراعت، بجلی کی پیداوار اور پانی کو صاف کرنے جیسے مختلف شعبوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "ان میں بدترین استعمال ایٹم بم کی تیاری ہے، لیکن اسے کس نے استعمال کیا؟انہوں نے استفسار کیا کہ "اگر یہ بم ناقابلِ قبول ہے، تو پھر امریکہ، اسرائیل اور فرانس کے پاس یہ کیوں ہے؟”۔جنرل کوثری نے دوٹوک انداز میں اس امر کی تصدیق کی کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ "رہبرِ اعلیٰ نے شرعی طور پر اسے حرام قرار دیا ہے، اسی لیے ہم اس کے حصول کی کوشش نہیں کرتے”۔پاسداران انقلاب کے اعلیٰ فوجی عہدیدار جنرل کوثری نے یاد دلایا کہ امریکہ، فرانس اور جرمنی نے انقلابِ ایران 1979 کی کامیابی سے پہلے ایران کے ساتھ جوہری منصوبوں میں تعاون کیا تھا۔نیز امریکیوں نے تہران یونیورسٹی میں ایک تحقیقی ری ایکٹر قائم کیا، فرانس نے مغربی اہواز میں”دار خوین” کے مقام پر جوہری پلانٹ کا منصوبہ شروع کیا اور جرمنوں نے بوشہر میں دو جوہری پلانٹس تعمیر کیے”۔انہوں نے مزید کہا: "عراق و ایران کی جنگ کے بعد، ہم نے روس کی مدد سے بوشہر پلانٹ مکمل کیا اور اب ہم اس سے تقریباً 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت ہمارے جوہری توانائی کے حصول کی حمایت کیسے کرتے تھے ؟ اور آج یورینیم کی افزودگی کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟”۔اس کے علاوہ، انہوں نے چند سابق ایرانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی، اور انہیں "کم ہمت اور غدار” قرار دیا۔کوثری نے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے شروع سے کہا تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ امریکی مطالبات اور ہماری سرخ لکیر کے درمیان بہت بڑا فرق ہے”۔انہوں نے آخر میں کہا کہ اس بار ایرانی مذاکراتی ٹیم 2015 کے جوہری معاہدے کی ٹیم سے بالکل مختلف طریقے سے کام کر رہی ہے”۔ جنرل کوثری نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے فیصلے مکمل نگرانی میں ہیں اور اسے مکمل حمایت حاصل ہے تاکہ وہ مسلمہ اصولوں کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات جاری رکھ سکے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آئندہ جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کا پانچواں منعقد ہو رہا ہے، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی جنگ بڑھ رہی ہے۔امریکی خصوصی ایلچی برائے ایران، سٹیو وٹکوف نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکہ ایران کو اس کی سرزمین پر ایک فیصد بھی یورینیم کی افزودگی کرنے کی اجازت نہیں دے گا”۔دوسری طرف تہران نے اس شرط کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے ساتھ یا اس سے ہٹ کر یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔












