دوحہ (یو این آئی) قطر کے وزیر اعظم نے نیتن یاہو کی دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے سی این این کو انٹرویو میں دو ٹوک مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ انھوں نے کہا نیتن یاہو خود پرست ہیں، دنیا کو قوانین پر لیکچر نہ دیں، جب کہ وہ خود سارے قانون توڑ رہے ہیں۔انھوں نے کہا نیتن یاہو غزہ میں لوگوں کو بھوکا مار رہے ہیں، اور خطے میں جارحیت کر رہے ہیں، اور اب وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ نیتن یاہو عالمی عدالت کو مطلوب ہیں، ان کا احتساب ہونا ضروری ہے۔قطری وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملے کا جواب علاقائی شراکت داروں سے مشورے کے بعد دیں گے۔ قطری وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی اقدام کا رد عمل خطے کی طرف سے آئے گا کیوں کہ پورا خلیجی خطہ خطرے میں ہے، یہ ردعمل فی الحال خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشاورت اور بات چیت کے تحت طے کیا جا رہا ہے۔وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا وہ جانتے تھے قطرمیں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انھوں نے دھوکے سے حملہ کیا اور جواز پیش کرنے کے لیے نائن الیون حملوں سے موازنہ کرنے کی شرمناک کوشش کی۔وزارت خارجہ نے کہا قطر میں مذاکرات ہمیشہ بین الاقوامی حمایت کے ساتھ شفاف انداز میں اور امریکی اور اسرائیلی وفود کی موجودگی میں ہوئے، قطر اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے بے پناہ دھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے حماس کے وفد کو خفیہ طور پر پناہ دی، نیتن یاہو نے قطر پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا نائن الیون حملے کے بعد جو اصول امریکا نے اپنایا ہم نے بھی وہی اختیار کیا، امریکا نے نائن الیون کے گھناؤنے جرم کے دہشت گردوں کو پکڑنے کا وعدہ کیا، افغانستان میں القاعدہ کا پیچھا کیا اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو مار ڈالا، یہی طریقہ ہم نے اپنایا۔












