چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت ہند کو مکتوب بھیجا گیا ،اس میں کہا گیا ہے ایک ساتھ الیکشن کرانے کے لیے 10؍ہزار کروڑ روپے کی نئی مشینیں درکار ، 11؍لاکھ 80؍ہزار بنانے ہوں گے پولنگ سینٹر
الیکشن کمیشن نے اپنے مکتوب میں اور کیاکہا
ون نیشن ون الیکشن نے 5؍آرٹیکل میں ترمیم ضروری
آرٹیکل 83,85,172,174؍اور 365؍ہیں
لوک سبھا اور اسمبلی کے لیے الگ الگ لانی ہوںگی مشینیں
مشینوں کو پہنچانے کے لیے زیادہ گاڑیوں کی ضرورت ہوگی
ایک ساتھ الیکشن اب 2029؍میں ہی کرائے جا سکتے ہیں
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍کے لیے بہت ممکن ہے کہ فروری کے آخر میں تاریخوں کا اعلان کر دیا جائے لیکن اس سے پہلے ’’ون نیشن ون الیکشن ‘‘ کی بحث تیز ہو گئی ہے ۔اس کو لے کر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں۔ ایک طرف صدر جمہوریہ ہند نے رائے طلب کی ہے کہ ون نیشن ون الیکشن کیسے ہو تو دوسری طرف پرنسپل اپوزیشن کانگریس پارٹی اور اس کے بعد عام آدمی پارٹی کی جانب سے جواب میں اس سے انکار کر دیا گیا ہے ۔اس بحث کے دوران اب چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت ہند کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے جس سے واضح ہورہا ہے کہ فی الحال اس مرتبہ ون نیشن ون الیکشن ممکن نہیں ہے یعنی اس چہ می گوئ پر قدغن لگ گئی کہ اس بار عام انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات بھی کرائے جا سکتے ہیں ۔ چیف الیکشن کمیشن نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ اگر ون نیشن ون الیکشن کرایا جاتا ہے تو اس کے لیے ہر پندرہ سال میں 10؍ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی یعنی ہر پندرہ سال پر ساری مشینیں بدلنی پڑیں گی ۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ایک مشین صرف تین مرتبہ ہی استعمال کی جا سکتی ہے اور اس کے بعد اس کو بدلنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی اگر اس سال ایک ساتھ الیکشن کرائے جاتے ہیں تو اس کے لیے 11؍لاکھ 80؍ہزار پولنگ سینٹر بنانے پڑیں گے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جاتے ہیں تو اس کے لیے ایک پولنگ سینٹر پر دو ای وی ایم لگانی ہوں گی یعنی ایک لوک سبھا کی ووٹنگ کے لیے اور دوسری مشین اسمبلی کی ووٹنگ کے لیے ۔ رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کو الیکشن کمیشن نے سابقہ تجربہ کی بنیاد پر مکتوب روانہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کے دوران اگر کوئی یونٹ خراب ہوتی ہے تو اس کو بدلنے کے لیے کنٹرول یونٹ ،بیلٹ یونٹ اور ووٹر ویری فیبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی )مشینوں کی ضرورت ہوگی ۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے پچھلے سال وزارت قانون حکومت ہند کو ایک رپورٹ بھیجی تھی جس میں کہا تھا کہ ایک ساتھ الیکشن کرانے کے لیے کم سے کم 46؍لاکھ 75؍ہزار 100؍بیلٹ یونٹ ، 33؍لاکھ 63؍ہزار 300؍کنٹرول یونٹ اور 36؍لاکھ 62؍ہزار 600؍وی وی پی اے ٹی مشینوں کی ضرورت ہوگی ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق گزشتہ سال کے شروع میں ای وی ایم کی لاگت قریب 7900؍روپے فی بیلٹ یونٹ ، 9800؍روپے فی کنٹرول یونٹ اور 16000؍روپے فی وی وی پی اے ٹی تھی ۔ در اصل یہ جواب وزارت قانون کی طرف سے بھیجے گئے سوال پر دیے گئے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ ای وی ایم کے علاوہ گاڑیوں کی بھی زیادہ ضرورت ہوگی کیونکہ مشینیں بڑھ جائیں گی تو ان کو پہنچانے کے لیے گاڑی بھی زیادہ درکار ہوں گی ۔ اپنے مکتوب میں یہ بھی کہا ہے کہ اب لوک سبھا اور اسمبلی کے ایک ساتھ الیکشن 2029؍میں ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک ساتھ الیکشن کے لیے پانچ آرٹیکل میں ترمیم کی بھی ضرورت ہوگی ۔یہ آرٹیکل 83,85,172,174؍اور 365؍ہیں ۔اس سے واضح ہو گیا کہ فی الحال چاہتے ہوئے بھی مودی حکومت اس مرتبہ ایک ساتھ الیکشن نہیں کرا سکتی ۔












