تہران:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہمارا ملک سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے اور سفارتکاری کے ذریعے دہائیوں سے موجود تنازعات کو طے کرنے کے لیے تیار ہے۔ مگر دباؤ کے لہجے اور زبان کو قبول کیا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی مثبت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایران کے ریاستی ٹی وی کے ساتھ کیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ یہ مغرب کے لیے وقت ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس نے تعاون کا راستہ منتخب کرنا ہے یا تصادم کا۔یاد رہے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر سنیپ بیک پابندیاں عائد کرنے کے لیے 28 اگست سے پراسس شروع کر دیا ہے۔ان ملکوں کا ایران پر الزام ہے کہ تہران 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد میں ناکام ہو چکا ہے۔ جو اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے عالمی طاقتوں نے اس کے ساتھ 2015 میں کیا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری واچ ڈاگ ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی سے نیو یارک میں ملاقات سے پہلے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقاتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز میں متوقع ہے۔
دو یورپی سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات آج منگل کے روز ہی ہوجائے گی۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو بار بار آزما لیا ہے۔ ایران دباؤ کی زبان استعمال کرنے والوں کو جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا میں امید کرتا ہوں کہ ہم آنے والے دنوں میں ایک سفارتی حل نکال لیں گے۔ بصورت دیگر ایران ضروری اقدامات کرے گا۔یاد رہے اگر ایران یورپی ملکوں کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو 27 ستمبر سے ایران پر اقوام متحدہ کی طے شدہ پابندیاں عائد ہوجائیں گی۔ یہ پابندیاں سنیپ بیک کے نام سے مشہور ہیں۔ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتہ کے روز کہا تھا ایران اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کی گئی کسی بھی پابندی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ تاہم ایران کے اندرونی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ ایرانی معیشت کے حالات تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔خیال رہے جون میں ایران پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے بعد ایران نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کے ساتھ اس وقت تک تعاون معطل رہے گا جب تک سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اس کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم 9 ستمبر کو ایران نے بین الاقوامی جوہری ادارے کے ساتھ نئے سرے سے معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت وہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرے گا۔ تاہم اس کے لیے بھی ایرانی سلامتی سے متعلق اعلیٰ قومی سیکیورٹی کونسل کی منظوری ضروری ہوگی۔












