اسلام آباد:سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت اور انسانی وسائل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ جلد پاکستانی ہنر مند کارکن کویت میں خدمات انجام دینے کے لیے دوبارہ سے جانا شروع کریں گے۔ کویت نے پاکستان پر عائد کردہ اس پابندی کو اس سال کے شروع میں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جو 19 سال پہلے لگائی گئی تھی۔19سال پہلے کویت میں پاکستانی کارکنوں اور ہنر مندوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس پابندی کے تحت پاکستانی کارکن کویت میں روزگار حاصل نہیں کر سکتے تھے۔یاد رہے ہزاروں پاکستانی ہر سال خلیجی ملکوں، یورپی ملکوں اور امریکہ سمیت دیگر ملکوں میں روزگار کے لیے جاتے ہیں جن سے پاکستان کو اربوں روپے کا زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے اور یہ رقومات پاکستانی معیشت کے لیے تقویت کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔پیر کے روز پاکستان کے متعلقہ حکام نے اطلاع دی ہے کہ اب یہ ہنر مند کارکن پاکستان سے کویت میں دوبارہ جانا شروع کر دیں گے۔ یہ بہت طویل عرصہ بعد پاکستان کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔سرکاری حکام کے حوالے سے خبر رساں ادارے ‘اے پی پی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان سے اب بلاتاخیر ہنر مندوں کی کویت روانگی شروع ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں کویت میں ویئر ہاؤسز کے سپروائزرز کی ملازمتوں کے لیے فوری طور پر ہنر مندوں سے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہوں اور ڈپلومہ یا بیچلر ڈگری کے علاوہ وہ روانی سے انگریزی بول سکتے ہوں۔اس طرح ویئر ہاؤسز کے کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی روزگار کے مواقع ہیں۔ علاوہ ازیں بڑھئی اور نان سکلڈ ورکرز جو بڑھئی اور ڈرائیورز کو معاونت دے سکیں کویت جانے کے لیے 15 اگست تک درخواستیں دے سکتے ہیں۔پاکستان اور کویت کے درمیان 1963 سے سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔












