ریاض:سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام آج اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے ظلم اور نسل کشی کی بدترین سطح کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کی ایک واضح اور بے مثال خلاف ورزی ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی قبضے کے جرائم پر بین الاقوامی خاموشی انسانی المیے کو مزید بڑھا رہی ہے اور خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے مواقع کو کمزور کر رہی ہے۔ یہ بیان جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 21 ویں غیر معمولی اجلاس میں سعودی عرب کے خطاب کے دوران دیا گیا۔ اس اجلاس میں فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی جارحیت کے نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔سعودی وزیر نے اسرائیلی بستیوں اور قبضے کے منصوبوں کو بھی مسترد کردیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قبضے کے جرائم کو ختم کرے اور اسرائیل کو اس کی جارحانہ پالیسیوں سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل خلاف ورزیاں امن کے کسی بھی راستے میں رکاوٹ ہیں اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مزید ہنگامہ آرائی کو ہوا دے رہی ہیں۔انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر سعودی عرب کے مستقل موقف پر زور دیا اور کہا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ استحکام کے حصول کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد اور منصفانہ آپشن ہے۔ شہریوں کے خلاف اسرائیل کے مسلسل جرائم اور اس کی سزا سے بچ نکلنے کی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے ان ممالک سے جو ابھی تک ان اقدامات کی مذمت کرنے میں ہچکچا رہے ہیں اپنے موقف پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ صورت حال اس مقصد کی حقانیت کے بارے میں بین الاقوامی یقین کی عکاسی کرتا ہے۔












