انقرہ:ترکیہ میں سوشل میڈیا پر ایک المناک واقعہ نے لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ فسادات کو کنٹرول کرنے والی فورس میں کام کرنے والے ایک افسر نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو سرکاری پستول سے قتل کر کے خودکشی کر لی۔ 35 سالہ نوجوان افسر جوشکون سویلیماز نے اپنی 33 سالہ بیوی، 7 سالہ بیٹے اور 2 سالہ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ماں اور اس کے دو بچے جنوب مغربی ترکی کے شہر دنیزلی میں اپنی والدہ کے گھر پر سو رہے تھے جب والد نے جمعہ کو فجر کے وقت ان پر حملہ کیا۔ ترکیہ کے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ افسر اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیوں پر تھا اور تین دن پہلے جنوبی ترکی کی شرناک ریاست میں اپنی سکیورٹی ڈیوٹی کی جگہ سے اپنی ساس کے گھر آیا تھا جہاں اس کا خاندان اس انتظار میں رہ رہا تھا کہ وہ کام کی جگہ پر ایک گھر میں منتقل ہو جائیں۔
دادی نے اپنی بیٹی اور دو نواسوں کے کمرے سے گولی چلنے کی آواز سنی تو فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو بلایا ۔ جب پولیس اور ایمبولینس پہنچی تو انہیں مردہ پایا۔ افسر ہسپتال لے جاتے ہوئے چل بسا۔ اس بات کا امکان ہے کہ 2017 میں شادی کرنے والا افسر حالیہ عرصے میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں مالی قرضوں کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھا۔مقامی خبروں کے ذرائع نے بتایا کہ اس شخص پر 6 سے 7 ملین ترک لیرا یعنی ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ امریکی ڈالر کا قرض تھا، اور وہ انہیں ادا کرنے کے لیے دوسرے لوگوں سے قرض نہیں لے سکا تھا۔ ترک بلاگرز نے سوشل میڈیا پر اس خاندان کی دل دہلا دینے والی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ پچھلے سالوں میں لی گئی فنی اور قدرتی لمحات کی تصاویر میں نظر آ رہے ہیں۔












